نئی دہلی،23؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)نفع بخش عہدہ معاملے میں نااہل قرار دئیے گئے عام آدمی پارٹی کے تمام 20سابق اراکین اسمبلی نے منگل کو ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔الیکشن کمیشن کی سفارش پر مہر لگانے کے صدر کے فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے۔واضح رہے کہ پیر کو پارٹی کے6 سابق ممبران اسمبلی نے نااہل قرار دینے والی سفارش کے خلاف اپنی عرضیاں واپس لے لیں تھیں۔ممبران اسمبلی کی دلیل تھی کہ سفارش کی منظوری مل گئی، ایسے میں ان عرضیوں کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ذرائع کے مطابق ہائی کورٹ میں آپ جو عرضی داخل کی ہے اس میں یہ تین مطالبے ہیں۔(1) الیکشن کمیشن کی طرف سے صدر کو دی گئی سفارش کے لیے منسوخ کیاجائے۔(2) صدر کی طرف سے جاری نوٹفکیشن کو ملتوی کیا جائے۔(3) دوبارہ سے نفع بخش عہدے کو لے کر سماعت ہو جس میں عام آدمی پارٹی کو اپنا موقف رکھنے کا موقع مل سکے۔ان ممبران اسمبلی نے عدالت کو بتایا کہ انہیں نااہل قرار دینے والی نوٹیفکیشن پر تبادلہ خیال کرنے کے بعد انہوں نے نئی عرضی داخل کی ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ کمیشن کی جانب سے صدر کو بھیجی گئی سفارش کے خلاف دائر ان کی عرضی اب بے معنی ہو گئی کیونکہ صدر نے سفارش قبول کر لی ہے اور اس بابت ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کی جا چکی ہے۔جسٹس لائن پارش نے ممبران اسمبلی کو اپنی عرضی واپس لینے کی اجازت دے دی تھی اور اسے واپس لیا ہوا مان کر مسترد کر دیا۔آپ کے ایک رکن اسمبلی کی طرف سے پیش ہوئے وکیل منیش وششٹ نے عدالت کو بتایا کہ انہیں نااہل قرار دینے کی کمیشن کی سفارش صدر کی جانب سے منظور کر لئے جانے کے بعد حکومت نے 20 جنوری کو اس بابت نوٹیفکیشن جاری کیا۔اس دلیل کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے عدالت نے جنوری کا اپنا وہ آخری حکم جاری رکھا، جس میں ان ممبران اسمبلی کو کوئی راحت نہیں دی گئی تھی۔صدر کو بھیجی گئی آپ کی رائے میں کمیشن نے کہا تھا کہ پارلیمانی سیکرٹری کے عہدے پر رہ کر انہوں نے نفع بخش عہدہ سنبھالا اور اسی وجہ سے وہ دہلی اسمبلی کے رکن کے طور پر نااہل قرار دئیے جانے کے قابل ہیں۔وکیل پرشانت پٹیل نے آپ کے ان 21ممبران اسمبلی کے خلاف الیکشن کمیشن میں عرضی دائر کی تھی جنہیں دہلی کی اروند کیجریوال حکومت نے پارلیمانی سیکرٹری کے عہدے پر مقرر کیا تھا۔رجوری گارڈن سے رکن اسمبلی رہے جرنیل سنگھ کے خلاف کارروائی روک دی گئی تھی کیونکہ انہوں نے پنجاب اسمبلی انتخابات لڑنے کے لئے دہلی اسمبلی کی رکنیت چھوڑ دی تھی۔