ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نئے تعلیمی نصاب کے نفاذ پر بی جے پی کو اعتراض

نئے تعلیمی نصاب کے نفاذ پر بی جے پی کو اعتراض

Fri, 16 Dec 2016 19:06:55    S.O. News Service

بنگلورو۔15؍دسمبر(ایس او نیوز) ریاستی حکومت کی طرف سے آئندہ سال نئی تعلیمی نصاب کو لاگو کرنے کی تیاریوں پر بی جے پی نے سخت اعتراض کیا۔ سابق وزیر تعلیمات اور سینئر بی جے پی لیڈر وشویشور ہیگڈے کاگیری نے تعلیمی نصاب پر نظر ثانی کرنے والی پروفیسر برگور رامچندرپا کمیٹی کی سفارشات کے مطابق نئے نصاب کو اپنانے حکومت کے فیصلے کو عاجلانہ قرار دیا اور کہاکہ جب تک اس پر عوامی بحث نہیں ہوجاتی اس نصاب کو لاگو نہ کیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو تعلیمی شعبے میں شفافیت سے کام لینا چاہئے۔ کمیٹی کی سفارشات پر عوامی سطح کے ساتھ ماہرین تعلیمات اور مختلف اداروں اور انجمنوں سے بھی تبادلۂ خیال کیاجانا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ 2017-18 سے نیا تعلیمی نصاب لاگو نہ کیا جائے اگر لاگو کیاگیا تو اس سے انتشار پیدا ہوگا۔ساتھ ہی کتابوں کی طباعت میں بھی دشواری حائل ہوسکتی ہے۔کاگیری نے کہاکہ خود پروفیسر برگور رامچندرپا نے تعلیمی نصاب کے متعلق حکومت کو مکمل رپورٹ پیش نہیں کی ہے۔محض عبوری رپورٹ کی بنیاد پر تعلیمی نصاب کی ترتیب نہیں دی جاسکتی ۔ انہوں نے کہاکہ ان کے دور اقتدار میں کانگریس نے الزام لگایاتھاکہ انہوں نے تعلیمی نصاب کو زعفرانی رنگ دے دیاتھا۔لیکن اس الزام کو ثابت نہیں کیاجاسکا پروفیسر برگور رامچندرپا کمیٹی نے بھی اپنی رپورٹ میں یہ کہیں نہیں کہا ہے کہ موجودہ تعلیمی نصاب زعفران آلود ہے۔ انہوں نے کہاکہ دراصل کانگریس اپنے خفیہ ایجنڈا کو نصاب کا حصہ بنانے کیلئے اتنی جلد بازی میں کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ تعلیمی نصاب میں اگر اخلاقی امور شامل کئے جاتے ہیں تو اس کا خیر مقدم کیاجانا چاہئے۔اس کے ساتھ ہی نصاب کے معیار پر بھی توجہ دی جائے۔ایسا کچھ کئے بغیر پروفیسر برگور لامچندرپا کی رپورٹ کو اگر جلد بازی میں نافذ کیاگیا تو اس کے نتائج بہتر نہیں ہوں گے۔


Share: