چنتامنی:11 / اکتوبر(محمد اسلم/ایس او نیوز) اخبارایک سیاسی لیڈر یا ایک گروپ کا بن کر نہیں رہنا چاہئے عوام کو چنندہ نمائندوں کے اوپر بہت بھروسہ رہتا ہے اگر عوامی نمائندے سچائی اور ایمانداری پر قائم رہ کر عوام کی خدمات انجام دیتے ہیں تو اس کی اشاعت اخباروں کی زینت بنی رہناچاہئے اگر کوئی غلط کام نمائندے کرتے ہیں تو بلاخوف و جھجک کے یہ خبریں بھی اخبار میں شائع کرکے عوام کو جانکاری فراہم کرنا ضروری ہے میڈیا کاکام ہی سچائی کو عوام کے سامنے لانا ہے عوام اخباروں کو اشتیاق سے پڑھنا ضروری ہے اور اخبار کا روزانہ بے صبر سے انتظار کرکے مطالعہ کرنا ہی اخبار کی شان مانی جاتی ہے سماج میں چند اخبار ہیں وہ جب بھی خبریں اشاعت کرتے ہیں توسماج کے چند نام نہاد شخصیتوں کو بلاک میل کرکے ہراساں کرتے رہتے ہیں سب سے قبل اخبار کی عزت وقابلیت عوام میں بحال کرنا ضروری ہے خبریں شائع کرتے ہیں تو وہ خبریں سماج میں اثرات قائم کریں اور شائستہ الفاظوں کا استعمال بھی خبروں کی اہمیت میں شمار ہوتے ہیں ہمیشہ خبریں نیچی سطح سے اوپر تک سبکی اشاعت کرنا ضروری ہے یہ بات ڈی۔وائی۔ایس۔پی۔کرشنامورتی نے کہی ۔آج شہر کے پتر کرترا بھون میں ماہ نامہ مسلم وائس کنڑا آخبار کی رسم اجرا ء کرنے بعد خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ طاقتور اور اچھے سماج کی تعمیر میں صحافیوں کی سچائی پر مبنی رپورٹیں مدد گار ثابت ہوں گی اس جدید دور میں میڈیا بھی پہلے کے مقابلے بار سوخ اور طاقتور ہوچکا ہے سماج میں بااقتدار لوگوں کی طرف سے کی جانی والے غلطیوں اور لاپروائیوں کی نشاندہی کرانے اور عوامی بیداری لانے میں میڈیا کا کردار اہم ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صحافی پہلے کے مقابلے آج بہت ہی مصروفیات اور دباؤ میں کام کررہے ہیں چاہئے جتنا بھی دباؤ اور مصروفیات کیوں نہ ہو سچائی اور حقیقت پر مبنی رپورٹس شائع کرکے سماج میں سدھار لانے کی کوشش کریں صحافی سماج کی آنکھ کہلاتے ہیں سیاستدانوں کی ترقی میں صحافیوں کا کردار اہم ہوتا ہے مگر جب سیاستدانوں کی طرف کوئی غلطی یاناانصافی ہوتی ہے تو اس غلطی اورناانصافی کومنظرعام پرلانے کاکام بھی صحافیوں کی طرف ہوناچاہئے اس معاملے میں کسی بھی طرح کی چھوٹ نہیں دینی چاہئے۔ بعد گرام پنچایتی کے سابق رُکن اعجاز پاشاہ امباجی درگ نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں میں اخلاق اور سماج کی خدمت کا جذبہ ہونا بہت ضروری ہے کوئی بھی خبر کیوں نہ ہو اس کو مکمل سچ اور لوگوں کی بھلائی کی فکر کے ساتھ کام کرنا چاہئیے سیاسی لوگوں کی کٹپتلی نہیں بننا چاہئیے صحافیوں کو بھی اپنے چالنجس ہوتے ہیں ایسے ماحول میں بھی اگر وہ سماج کی خدمت کا جذبہ کو برقرار رکھیں تو کامیابی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج بھی کئی صحافی ہیں جو لوگوں کی بھلائی کے لئے لکھتے ہیں اور اپنی جان جو کھم میں ڈالکر اپنے فرائض کو انجام دیتے ہیں اس میں اخباری نمائندوں کا بہت بڑا رول ہوتا ہے ان کاپہلا فرض یہی ہونا چاہئے کہ وہ سماج و ملک کی ترقی کو ترجیح دیں لوگوں کی مشکلوں کو سمجھ کر رپورٹ کریں اور سچی خبر کو ہی تحریر کریں۔اعجاز پاشاہ نے کہا کہ صحافیوں کے لئے ضروری ہے کہ ان کی کسی بھی رپورٹنگ سے عوام پیچیدگی کا شکار نہ ہوں اور اپنے دائرہ میں رہتے ہوئے کسی کو ہدف ملامت نہ بناتے ہوئے رپورٹنگ کریں الفاظ کے استعمال میں چوکنا رہیں اور مضامین پر عبور حاصل کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا جب فرقہ واریت کو بڑھاوانہ دے کر اس کی مذمت کرے گا تو سماج میں امن وشانتی کا قیام ممکن ہوگا فرقہ پرستی پورے ملک کے لئے خطرہ ہے سماج میں بدامنی کاماحول پیدا کرتی ہے میڈیا کو اس پس منظر میں قلم اٹھانا چاہئے،بعد ازاں ایوش داتا کنڑااخبار کے ایڈیٹر ڈاکٹر وزیر احمد نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سماج میں اخباروں کو سارے طبقوں کے لوگوں کی آواز بن کر اُبھرنا ہے آج دنیاء ایک گاؤں کی طرح ہوگئی ہے سینکڑوں اور ہزاروں کلومیٹر کی دوری پر رہنے والے افراد بھی یو ایک دوسرے کی خوشی وغم میں شریک ہیں گویا ایک گاؤں میں رہ رہے ہیں اخبار کا ذریعہ ایک اہم شعبہ بن گیا ہے جس نے ہماری زندگیوں کو ہمیشہ متاثر کرتا ہے روز مرہ کے اخبارات ہمارے زندگی کے لئے ضروریات بن گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کولار چکبالاپور دونوں جڑواں اضلاع کے صحافی بہت ہی ہمت اور دلچسپی سے اخبار وغیرہ سے جڑا کر ہمت سے کام کررہے ہیں جڑوا ں اضلاع میں ہمت سے صحافت کا کام انجام دینے والے صحافیوں کو میں داد دیتے ہوں کہ اسی طرح صحافی میدان سے جڑا کر ہر میدان کا مقابلہ کریں اور سچی خبریں منظر ے عام پر لانے کی بے انتہا کوشش کریں۔اس موقع پر جامع مسجد اڈھاک کمیٹی کے صدر مون اسٹار غوث پاشاہ گرام پنچایتی رُکن جمیل پاشاہ سرنیواسپور کنڑا آخبار کے رپورٹر اسماعیل پاشاہ آر کے عمران خان اکرم خان ٹیپو سیکولرسینا کے سٹی صدر سمیع اللہ روزنامہ سالاراخبار کے رپورٹر محمد اسلم ارشاد احمد نعمانی کے آر نرسمہ اپا اے ٹی ایس شرنیواس منصور احمد سمیت کئی احباب موجود رہے۔