مینگلور 7/نومبر (ایس او نیوز) قریبی تعلقہ بنٹوال میں پانچ لڑکے اچانک غائب ہوجانے سے پورے علاقہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ، جس میں ایک لڑکے کی لاش قریبی فالگونی ندی سے برآمد ہوئی ہے اور شبہ ظاہر کیا جارہاہے کہ سبھی لڑکے ندی میں تیرنے کے دوران ڈوب گئے ہوں گے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق علاقہ کے پانچ لڑکے کل پیر کی دوپہر کو کھیلنے کے لئے گئے تھے، مگر رات کا اندھیرا پھیلنے کے بائوجود واپس گھر نہیں پہنچے، اس دوران بچوں کے گھروالے مقامی لوگوں کی مدد سے اُن کی تلاش کے لئے نکل پڑے، مگر کہیں پر بھی ان لڑکو ں کاپتہ نہیں چل پایا، بعد میں خبر ملی کہ یہ لڑکے قریبی ندی میں تیرتے ہوئے پائے گئے تھے، تلاشی مہم کے دوران کچھ کپڑے ندی میں پائے گئے جس سے اس بات کو تقویت مل گئی کہ لڑکے ندی میں ہی اُترے ہیں اور ڈوب کر لاپتہ ہوگئے ہیں، کافی تلاشی کے بعد ایک لڑکے کی لاش آج منگل صبح ندی سے برآمد کرلی گئی جس کی شناخت سواد ابن محمد (17) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔
باقی لڑکوں کی شناخت اسلم ابن اشرف (17)، رمیض ابن شریف (17)، عظمت ابن حمزہ (18) اور مبشر ابن شریف (17) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ ان سبھی لڑکو ں کی بھی صبح سے ہی فالگونی ندی میں تلاشی کا کام جاری ہے۔ یہ سبھی لڑکے مُلارپٹنہ شنٹی ہیتلو کے رہنے والے بتائے گئے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ پانچوں لڑکے اسکول میں چھٹی ہونے کی بناء پر ندی میں تیرنے کے لئے اُتر ے تھے، ندی کے اطراف رہنے والے کچھ لوگوں نے ان کو تیرتے ہوئے دیکھا تھا، مگر بعد میں سبھی ندی میں ہی ڈوب کر لاپتہ ہوگئے۔ جب لڑکے شام کا اندھیرا پھیلنے کے بائوجود گھر نہیں پہنچے تو گھروالوں نے لڑکوں کو موبائل پر رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر موبائل بھی سوئچ آف تھے، جس کے بعد رات سے ہی تلاشی شروع کی گئی تھی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی بنٹوال کی مضافاتی پولس موقع واردات پر پہنچی، ماہر تیراک کی مدد سے تلاشی مہم چلائی گئی، مگر رپورٹ لکھے جانے تک باقی چار کا پتہ نہیں لگ پایا تھا۔