ممبئی 23/ ستمبر (ایس او نیوز/ پریس ریلیز) مہاراشٹر کی مختلف جیلوں میں بند قیدیوں کو ان کے اہل خانہ و وکلاء سے گفتگو کرنے کے لیئے ٹیلی فون سہولیات دیئے جانے کی شروعات مہاراشٹر حکومت نے کردی ہے اور اس کے تحت سب سے پہلے گذشتہ دنوں مہاراشٹر کے سانگلی ضلع کی جیل میں ’’ٹیلی فون ‘‘ سروس کا آغاز کیا گیا ہے ۔
مہاراشٹر کی جیلوں میں ٹیلی فون سروس کے آغازکی تصدیق کرتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (جیل) سواتھی ساٹھے نے کہا کہ مہاراشٹر کی مختلف جیلوں میں مقید ۱۹ ؍ ہزارسے زائد زیر سماعت قیدی اور دس ہزار سزا یافتہ مجرمین اس سروس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
سواتھی ساٹھے نے کہا کہ قیدیوں کو فون سہولیات سے فائدہ اٹھانے کے لیئے ’’کوئن بکس‘‘ کو استعمال کرنا پڑے گا جس کے لیئے یا تو انہیں جیل میں کام کرکے پیسے اکھٹا کرنے ہونگیں یا پھر انہیں ان کے اہل خانہ سے منی آرڈر منگوانا پڑے گا نیز فون نمبر کی تفتیش ہونے کے بعد ہی کوئی بھی قیدی جیل سے باہر فون کرسکے گا ۔
حالانکہ قیدیوں اور قیدیوں کے حقوق کے لیئے سرگرم غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے جیل میں ٹیلی فون سہولیات کی دستیابی کے تعلق سے ہمیشہ آواز اٹھتی رہی ہے کیونکہ ملک کی مختلف جیلوں جس میں تہاڑ جیل(دہلی) ، علی پور جیل(کولکاتہ) ، جئے پور جیل و دیگر شامل ہیں میں پہلے ہی یہ سہولیات مہیا کی جاچکی ہیں ۔
دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار بے گناہ مسلم نوجوانوں کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے وکیل شاہد ندیم نے بتایا کہ جیل میں ٹیلی فون سہولیات دستیاب کرانے کے تعلق سے اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملے کا سامنا کررہے ملزم جاوید عبدالمجید انصاری اور 98 ممبئی ریلوے بم دھماکہ میں نچلی عدالت سے قصور وار ٹہرائے گئے آفتاب سعید احمد شیخ نے ممبئی ہائی کورٹ میں ایک عرضداشت داخل کی تھی جس پر سماعت نہیں ہورہی تھی لیکن جمعیۃ نے اس معاملے کو اپنی زیر نگرانی لیتے ہوئے ایڈوکیٹ متین شیخ کو مقرر کیا جس کے بعد ۱۲؍ اگست ۲۰۱۶ء کو اس پٹیشن کی سماعت کے دوران دو رکنی بینچ کے جسٹس نریش پاٹل اور پرکاش نائیک کے روبرو سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جیل میں ٹیلی فون سروس کے تعلق سے مہاراشٹر حکومت سنجیدہ ہے متعلقہ حکا م کو ہدایت دی جاچکی ہے ۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو مزید بتایا تھا کہ حکومت ’’پائلیٹ پروجیکٹ‘‘ پر کام کررہی ہے جلد ہی مرحلہ وار صوبہ کی تمام جیلوں میں ٹیلی فون سہولیات مہیا کرادی جائے گی ۔
ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے کہا کہ حکومت کے پائلیٹ پروجیکٹ کے تحت ہی سانگلی کی جیل میں ٹیلی فون سروس متعارف کرائی گئی ہے نیز اس تعلق سے ہائی کورٹ میں دو عرضداشتیں زیر سماعت ہے اور امید ہیکہ معاملے کی اگلی سماعت پر حکومت اس تعلق سے عدالت میں تفصیلی رپورٹ پیش کریگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیلی فون سروس جیل میں شروع ہوجانے سے قیدیوں کو راحت حاصل ہوگی اور وہ ان کے اہل خانہ و وکلاء سے رابطہ میں رہ سکیں گے جس کی وجہ سے زیر معاملہ کی سماعت پر مثبت اثر ہوگا