بنگلورو،3؍فروری(ایس او نیوز) ریاستی وزیر برائے آبی وسائل ایم بی پاٹل نے کہاکہ دریائے مہادائی کے پانی کی تقسیم کے متعلق ریاستی حکومت پندرہ دن کے اندر مہادائی ٹریبونل کے روبرو اپنا موقف پیش کرنے والی ہے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کاویری معاملے میں سپریم کورٹ کی طرف سے کرناٹک کو روزانہ دو ہزار کیوسک پانی تملناڈو کی طرف بہانے کی جو ہدایت دی گئی ہے اس پر بھی عمل ناممکن ہے۔ جلد ہی حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں اعتراض دائر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ شمالی کرناٹک کے علاقوں کو مہادائی سے 7.56ٹی ایم سی فیٹ پانی مہیا کرانے کے سلسلے میں جلد ہی نظر ثانی کی عرضی دائر کی جائے گی اور انہیں توقع ہے کہ اس معاملے میں کرناٹک کے ساتھ انصاف ہوگا۔ وزیر موصوف نے کہاکہ سپریم کورٹ نے خود مہادائی مسئلے پر کرناٹک کو ٹریبونل سے رجوع ہونے کی ہدایت دی ہے۔ اس پر عمل کرتے ہوئے حکومت نے ٹریبونل سے رجوع ہونے کی تیاری کرلی ہے۔ تملناڈو کو روزانہ پانی فراہم کرنے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ریاست کے مفادات کیلئے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مرحلے میں جبکہ ریاست کا بیشتر حصہ خشک سالی سے بدحال ہے۔ کاویری طاس کے تمام آبی ذخائر سوکھے پڑھے ہیں، اس مرحلے میں تملناڈو کو پانی فراہم کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ ریاستی حکومت اس حقیقت سے عدالت عظمیٰ کو باور کرانے کی کوشش کرے گی۔ کاویری تنازعہ پر سپریم کورٹ میں 7فروری کو سماعت ہوگی اس معاملے میں ریاستی حکومت کی طرف سے پیروی کرنے کیلئے سینئر وکلاء فالی ایس ناریمن ، انیل دیوان اور دیگر ابھی سے مصروف ہوچکے ہیں۔اس معاملے میں ریاست کے مفادات کی حفاظت کیلئے حکومت تمام قدم اٹھانے کیلئے تیار ہے۔