ممبئی ۱۰؍ اگست (ایس او نیوز/پریس ریلیز) ممنوع دہشت گرد تنظیم القائدہ سے تعلق رکھنے کے الزمات کے تحت گرفتار بنگلور کے مشہور عالم دین مولانا انظر شاہ قاسمی و دیگر ملزمین کے خلا ف جن دفعات کے تحت مقدمہ چلے گااُس پر عدالت کی اگلی سنوائی ۴؍ ستمبر کو کریگی ، مگر آج عدالت نے ملزمین کے وکلاء کو حکم دیا کہ وہ اس تعلق سے ان کے دلائل تحریری شکل میں اگلے چند ایام میں کورٹ میں داخل کریں۔
آج دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے اسپیشل این آئی اے جج سدھارتھ شرما کی عدالت میں ملزمین کی سخت حفاظتی بندوبست میں پیشی عمل میں آئی جس کے دوران عدالت نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے مقرر کیئے گئے وکلاء ایڈوکیٹ ایم ایس خان اور ایڈوکیٹ ساریم نوید کو حکم دیا کہ وہ فرد جرم (چارجیس)پر اپنے دلائل تحریری شکل میں عدالت میں داخل کریں نیز تمام وکلاء کے دلائل موصول ہوجانے کے بعد عدالت آگے کی کارروائی کا آغازکریگی۔
اس سے قبل کی سماعت پر ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے عدالت کو بتایا تھا کہ این آئی اے نے ملزمین کو القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے جبکہ اس تنظیم سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے نیز ملزم انظر شاہ کے قبضہ سے تحقیقاتی دستوں کو کچھ حاصل نہیں ہوا ہے اور نہ ہی انہوں نے اس معاملے میں کوئی اقبالیہ بیان دیا ہے ۔ ایڈوکیٹ ایم ایس خا ن نے عدالت کو مزید بتایا تھاکہ جس سرکاری گواہ نے انظر شاہ کے خلاف بیان درج کرایا تھا وہ اپنے سابقہ بیان سے منحرف ہوچکا ہے اور اس معاملے کے دیگر ملزم محمد آصف نے بھی انظر شاہ کے تعلق سے کوئی بیان نہیں دیا ہے ۔
ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے عدالت کو ملزم محمد آصف کے تعلق سے بتایا کہ تحقیقاتی دستوں نے عدالت میں ایسا کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ ملزم پاکستان میں ٹریننگ حاصل کرنے کے لئے گیا تھا اور وہاں سے واپس آنے کے بعد اس نے دیگر ملزمین میں پیسے بھی تقسیم کیئے تھے ۔
واضح رہے کہ اسی سال کی ۶؍ جنوری کی شب نو بجے مولانا انظر شاہ قاسمی کو دہلی پولس نے ممنوع تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا ۔
اس سے قبل دارالعلوم دیوبند کے فارغ مولانا عبدالرحمن جنہیں دیگر ملزمین کے ہمراہ ممنوع تنظیم القاعدہ سے تعلق کی بناء پر گرفتا ر کیا گیا تھا کے دفاع میں سینئر کریمنل وکیل نتیا راما کرشنن اور ایڈوکیٹ ساریم نوید نے بحث کی تھی اور عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم عبدالرحمن کے خلاف یو اے پی اے کی دفعات کے تحت مقدمہ بنتا ہی نہیں کیونکہ تحقیقاتی دستوں نے ان کے خلاف جو ثبوت اکٹھا کئے ہیں وہ قانون کی نظر میں قابل قبول ہے ہی نہیں ہیں۔