ممبئی5نومبر ( ا یس او نیوز؍ایجنسی ) مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختارعباس نقوی نے آج یہاں اس بات کااظہار کیاکہ مرکز میں نریندرمودی کی قیادت میں حکومت ملک کی ترقی کو اپنا’راشٹر دھرم‘ سمجھتی ہے اور وہ غریبوں اور کمزور طبقات کی مساوی فلاح وبہبودوترقی کو قومی پالیسی کادرجہ دیتی ہے اور گزشتہ تین سال کے دوران مختلف منصوبوں کے تحت 50لاکھ سے زائدلوگوں کوروزگاراورروزگار مہیاکرانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔مختار عباس نقوی جنوبی ممبئی میں واقع وائی بی چوہان آڈیٹوریم میں منعقد صدیقی ایجوکیشنل اور ویلفئیر ٹرسٹ کے زیر اہتمام اقلیتوں کی ترقی میں تعلیم اورہنرمندی کارول کے موضوع پر ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اقلیت کو احساس کمتری ترک کرنی ہوگی ۔ کیونکہ مودی حکومت مذہب، فرقہ اور علاقائیت سے اوپر اٹھ کر غریب اور کمزور طبقوں کی ترقی کو اہم مقصد بنا کر مضبوطی سے سرگرم ہے اور اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔وزیر موصوف نے کہاکہ یہ قابل فخر بات ہے کہ دستور کے تحت ہندوستان میں اقلیت کو دوہرے اختیارات حاصل ہیں، ایک عام لوگوں کے ساتھ اوردوسرا اقلیت کی حیثیت سے انہیں حاصل ہیں۔انہوں نے واضح طور پر کہا کہ مودی حکومت غریب اور کمزور طبقات کی طرح اقلیتوں اور خصوصاً مسلمانوں کی سماجی، تعلیمی اورروزگار کے میدانوں میں بہتری پرتوجہ دیتے ہوئے کام کررہی ہے۔مختار نقوی نے کہاکہ وزارت اقلیتی امور کی جانب سے’’سیکھو اور سکھاؤ ‘‘ ’’نئی منزل‘‘،’’'نئی روشنی‘‘اور ’’غریب نواز ہنرمندی ترقی منصوبہ‘‘ اقلیتوں کی ترقی کے لئے اہم قدم ثابت ہورہے ہیں۔اور اس کے تحت پچاس لاکھ افراد کوروزگاراور روزگار مہیاکرانے میں کامیابی ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سو’غریب نوازکوشل وکاس مرکز‘کھولے جارہے ہیں اور ان مراکز میں اقلیتی نوجوانوں کو ہنر مندی کے کورس سکھائے جائیں گے، بلکہ کئی مراکز میں سکھائے بھی جارہے ہیں۔نقوی نے کہا کہ اس کے علاوہ ملک بھر میں ’ہنرہاٹ‘ کے ذریعہ لاکھوں غریب دستکاروں، فن کاروں کوروزگاراورروزگاکے مواقع مہیا کرائے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ مختلف وزارتوں اور محکموں کے افسران سے میٹنگ کرکے ان شعبوں میں اقلیت کو حاصل 15 فیصدسہولت کا فائدہ پہنچے۔انہوں نے واضح طور پر کہاکہ ملک کے حالات بہتر ہیں اور کسی بھی طرح مایوس نہیں ہوناچاہئے۔بلکہ ڈٹ کر پریشانیوں کا سامنا کیاجانا ہے۔ اجلاس میں مرکزی وزیر کے علاوہ اور بھی کئی اہم سماجی شخصیات شامل تھی انہوں نے بھی اپنا خطبہ پیش کیا۔