نئی دہلی، 18/اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی) دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے دہلی کے سابق وزیر صحت ستیندر جین کو ضمانت دینے کا فیصلہ سنایا ہے۔ جمعہ کے روز انھیں یہ ضمانت منی لانڈرنگ معاملے میں ملی ہے۔ ستیندر جین تقریباً 18 ماہ سے جیل میں بند ہیں اور اب ان کے باہر آنے کا راستہ ہموار ہو چکا ہے۔ انھیں مئی 2022 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تب وہ دہلی کے وزیر صحت تھے۔ گرفتاری کے بعد انھوں نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ عدالت نے انھیں 50 ہزار روپے ذاتی مچلکہ پر ضمانت دی ہے۔
ستیندر جین کی ضمانت پر آج جب دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا تو اس وقت سابق وزیر صحت کی شریک حیات عدالتی کمرے میں موجود تھیں، اور اس فیصلہ کو سنتے ہی رو پڑیں۔ اب جبکہ ستیندر جین کے جیل سے باہر آنے کا راستہ صاف ہو چکا ہے، عآپ کے تقریباً سبھی لیڈران دہلی اسمبلی انتخاب سے قبل جیل سے باہر ہوں گے۔ حال ہی میں اروند کیجریوال، منیش سسودیا اور وجئے نایر کو بھی سپریم کورٹ سے ضمانت مل چکی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ستیندر جین کو ای ڈی نے 30 مئی 2022 کو ان سے جڑی چار کمپنیوں کے ذریعہ منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اسپیشل جج راکیش سیال نے ملزم اور ای ڈی کے وکلا کی طرف سے ضمانت درخواست پر دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ ستیندر جین کے وکیل نے دلیل دی تھی کہ انھیں مزید حراست میں رکھنے سے کوئی مقصد پورا نہیں ہوگا۔ حالانکہ ای ڈی نے ضمانت کی مخالفت میں کہا تھا کہ اگر انھیں رِہا کیا گیا تو وہ گواہوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔