منگلورو 17؍نومبر(ایس او نیوز) شیرڈی گھاٹ سے ہاسن ہوتے ہوئے منگلورو سے بنگلورو تک ٹینکروں کے بجائے پائپ لائن کے ذریعے ایل پی جی سپلائی کرنے کا منصوبہ ابھی محض دس دن پہلے شروع کیا گیا تھا، لیکن پہلے ہفتے میں ہی اس سے ایک ناگہانی اور پیچیدہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ منگلورو سے بنگلورو کے مضافات سولور تک پائپ لائن کا کام مکمل ہونے کے بعد گیس کی سپلائی شروع کی گئی تھی۔ مگر منگل کی رات میں اچانکانکاپورا موسلے ہوسلی روڈ پر ایک جگہ سے گیس پائپ لائن پھٹ گئی اور 6فٹ بلندی تک گیس کا فوارہ اڑتا نظر آیا ۔ اسی کے ساتھ لکویڈ پٹرولیم آس پاس کے نالیوں میں تیزی کے ساتھ بہنے لگا۔جس سے عوام میں خوف وہراس کا ماحول پیدا ہوگیا۔
ہندوستان پٹرولیم کی طرف سے ماہرین کی ٹیم موقع پر پہنچی مگر لیکیج کا صحیح تعین نہیں کیا جاسکا۔ اس کے بعد ممبئی سے بھی ماہرین کی ٹیم گیس اخراج کی جگہ پر پہنچی ہے مگر اس کے باوجود ابھی تک گیس پائپ لائن کے سوراخ کو بند کرنا ممکن نہیں ہوسکا ۔ کہتے ہیں کہ ماہرین پائپ لائن میں گیس کا دباؤ کم ہونے کا انتظار کررہے ہیں ، تب تک اخراج کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح پائپ سے گیس کے اخراج کامعاملہ شاذ و نادر ہی پیش آتاہے جو کہ انتہائی خطرناک نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔پولیس نے اس کے علاقے کے اطراف تین کلو میٹر تک گاڑیوں کی آمد و رفت پر پابندی لگارکھی ہے۔تمام ترمکمل اور جدید حفاظتی انتظامات کے باوجود اس نئی پائپ لائن میں اتنی جلدی سوراخ ہونا خود ماہرین کے لئے ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ ابھی وہ اس بات کا فیصلہ کر نہیں پائے ہیں کہ گیس کا یہ اخراج کسی تیکنیکی خرابی سے واقع ہوا ہے یا کسی کی شرارت کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے پائپ لائنوں میں سوراخ کرکے ڈیزل اور پٹرول چوری کرنے والے گروہوں کی کارستانیاں ریکارڈ پر موجود ہیں۔ اس لئے ایک شبہ یہ بھی کیا جارہا ہے کہ کہیں چوروں کے کسی گروہ نے پائپ لائن سے گیس چوری کرنے کی کوشش میں سوراخ نہ کردیاہو۔ اصل حقیقت کیا ہے و ہ گہری تفتیش کے بعد ہی سامنے آ سکے گی۔ فی الحال علاقے میں پوری طرح چوکسی برتی جارہی ہے اور تحصیلدار کی طرف سے شانتی گرام ریوینیو علاقے میں امتناعی احکامات جاری کردئے گئے ہیں۔