ممبئی ،29؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ممبئی کے کملا مل کمپاؤنڈ میں جمعرات دیر رات لگی شدید آگ پر اب ریاست کے سیاسی جماعتوں کے درمیان بیان بازی کا دور شروع ہو گیا ہے۔اس معاملے پر شیوسینا کے رہنما اروند ساونت اور بی جے پی کے رہنما کریٹ سومیا کے درمیان جمعہ کو پارلیمنٹ میں بحث ہوئی۔اس دوران اروند ساونت نے اس شدید حادثے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ادھر، سومیا نے اس کے لیے بی ایم سی حکام کو ذمہ دار ٹھہرایا۔سومیا نے کہا کہ یہ حادثہ حکام کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔اس درمیان مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے حادثے کے بعد لاپرواہی برتنے کے الزامات پر صفائی دی۔انہوں نے کہاکہ بی ایم سی کے کمشنر نے آدھی رات میں ہی کملا ملز کا دورہ کر کے صورتحال کا جائزہ لیا تھا۔میں نے اس حادثے کی گہرائی سے جانچ اور مجرم ملازمین کے خلاف فوری طورپرسخت کارروائی کرنے کے لئے کہا ہے۔ادھر راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ اور اداکارہ جیا بچن نے کہا ہے کہ کملا مل ایک بھول بھلّیا کی طرح ہے اور اس کی گلیاں انتہائی تنگ ہیں۔اس لیے وہاں پر لاپرواہی ہوئی ہے۔بتا دیں کملا مل مل کمپاؤنڈ واقع 1-ابو ریستوران، لندن ٹیکسی بار اور موجو پب میں جمعرات دیر رات شدید آگ لگ جانے سے 15لوگوں کی موت ہو گئی اور 16افراد زخمی ہو گئے۔مرنے والوں میں 12 خواتین ہیں۔زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے جن میں دو کی حالت نازک ہے۔کنگ ایڈورڈ میموریل اسپتال (کے ای ایم )نے 14 لوگوں کی موت کی تصدیق کی ہے۔پولیس نے ایک ریستوران کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 304 کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔آگ لگنے کی وجہ کا پتہ فی الحال نہیں چل سکا ہے۔