ممبئی6؍ اگست (ایس او نیوز/پریس ریلیز)ممبئی کے مشہور تجارتی خطہ باندرہ کرلا کمپلیکس (BKC) میں واقع امریکن اسکول میں دھماکہ کرنے کی سازش رچنے کے الزامات کے تحت گرفتا ر ملزم انیس انصاری کی ضمانت عرضداشت کو ممبئی ہائی کورٹ نے گذشتہ دنوں مسترد کردیا تھا جس کے بعد ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ اعلان آج یہاں ممبئی میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کیا۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ممبئی ہائی کورٹ کے جسٹس پرکاش ڈی نائیک نے ضمانت عرضداشت ردکرنے کی یہ وجہ بتائی ہے کہ ملزم کے خلاف گواہوں نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ ملزم لگاتار انٹرنیٹ کے ذریعہ عمر الہاجی نامی غیر مقیم ہندوستانی شخص کے رابطہ میں تھا اور دونوں نے امریکن اسکول کو بم دھماکوں سے اڑانے کا منصوبہ بنایا تھا نیز ملزم ایک سافٹ وئیر انجینئر ہے اور بذریعہ انٹرنیٹ بیرون ممالک کے ایسے لوگوں کے مسلسل رابطہ میں تھا جو ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینا چاہتے تھے لہذا ملزم کو ضمانت پر رہا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ملزم کی ضمانت پررہائی سے اس بات کا شدید خدشہ ہے کہ وہ پھر سے ایسے لوگوں کے رابطہ میں آسکتا ہے جو دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں ۔
حالانکہ ضمانت عرضداشت پر بحث کے دوران ایڈوکیٹ شریف شیخ اور ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو بتایا تھا کہ ریاستی انسداد دہشت گرد دستہ (اے ٹی ایس ) نے ملزم کو صرف فیس بک پر کی گئی گفتگو کی وجہ سے ملزم بناکر جیل میں قید کیا ہوا ہے جوقانوناً کوئی جرم نہیں ہے اور نا ہی اس معاملے میں کسی کا قتل ہوا ہے اس کے باجود ملزم پر تعزیرات ہند کی دفعہ 302 (قتل) کا اطلاق کیا گیا ہے جوغیر آئینی ہے نیز ملزم نے نہ ہی کسی کا قتل کیا ہے اور نہ ہی بم دھماکہ ہوا ،یہ تو بس پولس کی من گھڑت کہانی ہے کہ اس نے فیس بک پر گفتگو کر کے اس کا منصوبہ بنایا تھا۔
وکلاء ننے عدالت کو مزید بتایا تھا کہ سپریم کورٹ نے فیس بک اور دیگر سوشل نیٹورکنگ سائٹس پر کی جانے والی گفتگو کو قابل جرم عمل نہیں قرار دیا ہے اور اسے آزادی اظہار رائے سے تعبیر کیا ہے لہذا ملزم کے خلاف جو ثبوت تحقیقاتی دستوں نے اکھٹا کئے ہیں وہ سب فیس بک سے حاصل کئے گئے ہیں جس کی قانون کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہے لیکن ہائی کورٹ نے وکلاء کے دلائل سے اتفاق نہیں کیا اور ملزم کی ضمانت عرضداشت مسترد کردی ۔
دفاعی وکلاء کی جانب سے مدلل دلائل پیش کرنے کے باوجود ممبئی ہائی کورٹ نے ملزم کی ضمانت عرضداشت کو مسترد کردیا جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا جمعیۃ علماء نے فیصلہ کیا ہے اور اس تعلق سے کارروائی شروع کردی گئی ہے ۔