مظفر نگر 20/اگست (ایس او نیوز) سنیچر کی دیر شام اُترپردیش کےمظفرنگر کے قریب کھتولی میں كلنگا-اُتكل ایکسپریس ٹرین کے پٹری سے اُترنے کے نتیجے میں جو حادثہ پیش آیا، اُس میں اب تک 23 موت واقع ہونے کی تصدیق کی گئی ہے. اس اعداد و شمار میں اضافہ ہونے کے بھی امکانات ظاہر کئے گئے ہیں.البتہ اس حادثے سے یہ صاف ہو گیا ہے کہ ٹرین سے اگر آپ بحفاظت گھر پہنچ جائیں تو یہ یقین کر لیجئے کہ یہ اوپر والے پربھو کی مہربانی تھی کیونکہ ریلوے کے پربھو ٹرین حادثوں کو روکنے میں مسلسل ناکام ثابت ہو رہے ہیں.
اُدھر مقامی عوام ٹرین حادثے کے لئے مکمل طور پر محکمہ ریلوے کو ذمہ دار ٹہرارہے ہیں! عوام کا کہنا ہے کہ ریلوے کے ہاتھوں 23سے زيادہ لوگوں کی موت واقع ہوئی اور انتظامیہ کا ہاتھ 70 زخمی افراد کے خون سے بھیرنگا ہوا ہے. موقع واردات پر موجود عینی شاہدین کے مطابق ٹریک پر کام چل رہا تھا. موقع واردات سے ٹریک کی مرمت سے متعلق اوزار اور دیگر سامان برآمد کیا گیا ہے. پٹریاں کٹی ہوئی پائی گئی ہیں اور ریلوے حکام اس ٹرین حادثے میں دہشت گردوں کے ہاتھ کی تلاش کر رہے ہیں. عوام کے مطابق پچھلے کچھ دنوں سے اُترپردیش میں وقفے وقفے سے ریل حادثات ہوئے ہیں۔ اور ہر حادثے کے بعد ریلوے کی وزارت دہشت گردی کی سازش کا شک جتاتے رہے ہیں. جس کے بعد ریلوے وزارت کا رویہ بے حد تشویش ناک ہےاور بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے.
1.ٹریک پر چل رہا تھا کام ؛حادثے کے لئے ریلوے ذمہ دار
انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق، مظفر نگر کے کھتولی میں ٹریک پر مرمت کا کام جاری تھا. موقع واردات سے ہتھوڑا، رنچ اور دیگر اوزاربرآمد کئے گئے ہیں. پٹریاں کٹی ہوئی پائی گئی ہیں.سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرمت جاری تھی تو پھر ٹرین کو اسی ٹریک پر جانے کیوں دیا گیا ؟ کیا ریلوے نے جان بوجھ کر اس حادثے کو انجام دیا؟
2. ریلوے میں کمیونیکیشن گیپ؟
ٹی وی میڈیا پر عوام سوال کرتے دیکھے گئے ہیں، کہ اگر ٹریک پر مرمت کا کام چل رہا تھا ، تو کیوں سگنل مین نے ٹریک پر کالنگا-اتکل ایکسپریس کو گرین سگنل دکھایا ؟ کیا اُسے پتہ نہیں تھا کہ ٹریک پر مرمت کا کام چل رہا ہے. اُترپردیش اے ٹی ایس کے ڈپٹی ایس پی انوپ سنگھ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جائے واردات والی ٹریک پر مرمت کا کام چل رہا تھا۔ لیکن ٹرین کو اس جگہ سے دھیرے سے آگے بڑھانے کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا تھا.
اب تک کی تحقیقات سے یہی بات سامنے آئی ہے ، اس بات کا بھی پتہ چلا ہے کہ اس ٹرین میں اے ٹی ایس کا ایک کانسٹیبل بھی سفرکررہا تھا۔ اس نے بھی کچھ معلومات فراہم کئے ہیں. اے ٹی ایس اس حادثے میں دہشت گردی کے اینگل کی بھی جانچ کر رہی ہے. اب سوال یہ ہے کہ کیا نزدیکی اسٹیشن ماسٹر کو اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں تھی ؟ اب اس حادثے کی ذمہ داری کون لے گا ؟ آج تک نیوز نے سوال اُٹھایا ہے کہ ہر حادثے میں دہشت گردی کی سازش ڈھونڈھنے والی ریلوے کی وزارت کیا اتنی بھی جانکاری نہیں رکھتی کہ کس ٹریک پر کہاں کہاں کام جاری ہے ؟ حیرت کی بات ہے کہ ریلوے کے وزیر سُریش پربھو ریلوے کو جدید ترین اسائش فراہم کرنے کی ڈھینگی ہانکتے رہتے ہیں۔
3.ہر حادثے کے بعد اینگل ڈھونڈتا ہے ریلوے
سریش پربھو کے ریلوے وزیر بننے کے بعد ریلوے کی وزارت نے ایک نئی ترکیب سیکھی ہے کہ ہر حادثے کے بعد پلّہ جھاڑنے کے لئے نئے نئے بہانے تراشے جائیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اس میں دہشت گردوں کی سازش قرار دینا بالکل نیا فارمولہ ہے۔ اس طرح کے حادثوں میں دہشت گردوں کا ہاتھ ہونے کی بات کہہ کریہ لوگ اپنی ذمہ داریوں سے بچ نکلتے ہیں اور ملک کے بھولی بھالی عوام بھی اُسے ہی سچ مان لیتے ہیں۔
4. ٹرین حادثوں سے نہیں لے رہے ہیں سبق
پچھلے تین سالوں میں سریش پربھو کے ریلوے وزیر رہتے ہوئے کم سے کم چھ ریل حادثے ہوئے ہیں ان میں سینکڑوں لوگوں کی جانیں جاچکی ہیں۔ ہزاروں لوگ زخمی ہوچکے ہیں، لیکن ریلوے نے ان حادثوں سے کوئی سبق نہیں لیا۔ ریلوے وزیر ہر بار سفر کو محفوظ بنانے کے دعوے کرتے ہیں، لیکن پھر وہی داغ کے تین پات۔ کوئی سدھار نہیں ہوتا اور ایک نیا حادثہ ہوجاتا ہے۔
5.ٹرین کا کرایہ بڑھ رہا ہے، مگر مسافروں کی حفاظت کے لئے کچھ نہیں ہورہا ہے
عوام الزام لگارہے ہیں کہ سُریش پربھو نے 2014 میں ریلوے وزیر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ٹرین کے کرائے میں دن دونی رات چوگنی اضافہ کیا ہے، پربھو نے اس بات کی گیارنٹی لی تھی کہ ریلوے حادثوں کو روکا جائے گا اور ریل سفر کو محفوظ بنایا جائے گا۔ لیکن تین سال بعد بھی نتیجہ صفر رہاہے۔
ریل حادثات باقاعدگی کے ساتھ وقفے وقفے سے ہورہے ہیں اور اُن کو روکنے کا کوئی ٹھوس پلان ریلوے کے پاس نہیں ہے۔ حادثے کے بعد مرنے والوں کے ورثاء کو معائوضہ کا اعلان ہوجاتا ہے اور اگلے دن سے صورتحال پھر معمول پر لوٹ جاتے ہیں۔
عوام سوال کررہے ہیں کہ کیا ریلوے یہ بتا پائیں گے کہ کانپور ریل حادثے کے بعد وزرات نے ریل حادثوں کو روکنے کے لئے کیا بندوبست کیا ؟ مظفر نگر ریل حادثے میں مرنے والوں کی ذمہ داری کون لے گا ؟ 23 سے زیادہ لوگوں کے مرنے والوں اور 50 سے زیادہ زخمیوں کے لئے کون ذمہ دار ہے ؟ سریش پربھو یہ کب سمجھیں گے کہ ریل حادثے ٹویٹ سے نہیں رُکتے۔
مظفر نگر کے قریب ہوا حادثہ:
یہ اس ملک کی حقیقت ہے جہاں بلٹ ٹرین کا خواب دکھایا جاتا ہے لیکن جہاں ایکسپریس ٹرینوں پرسفر اب بھی خطرے سے خالی نہیں ہیں۔ بلٹ ٹرین کا سپنا کس طرح پورا ہوگا، یہ کہنا مشکل نظر آرہا ہے. پوری سے ہری دوار جارہی اتكل ایکسپریس ہفتہ کی شام قریب پونے چھ بجے مظفرنگر سے کھتولی کے پاس حادثے کا شکار ہو گئی، اور ایک بار پھر یہ ثابت ہو گیا کہ انڈین ریلوے میں سفر کا مطلب ہے خطرے کی پوری گیارنٹی.
کب محفوظ ہوگا ریلوے سفر:
یہ مودی کابینہ کے ریلوے وزیر پربھو یعنی سُریش پربھو کا حال ہے. جہاں مسافروں کی سیکیورٹی اگلے شتابدی (یعنی صدی) کا سوال جیسا لگ رہا ہے. عوام کا کہنا ہے کہ سریش پربھو تمام طرح کی سہولتیں اور منصوبے ریلوے میں لاگو کررہے ہیں. ریلوے کو جدید بنانے کی مہم چلا رہے ہیں لیکن مسافروں کو بحفاظت اُن کی منزل تک پہنچانے کی ترجیح غالباً ان کے لئے زیادہ معنی نہیں رکھتی. اس حادثے کی تصاویراس بات کا ثبوت ہیں کہ ریلوے کو لے کر سریش پربھو کا ویژن کس حد تک پٹری سے اتر چکا ہے.
سیاسی ماتم کا سلسلہ شروع
کھتولی سے ابھی کئی دل دہلادینے والی تصاویر آئیں گی. کیونکہ کچھ ہی منٹوں میں، مسافروں سے بھرا ہوا ٹرین ملبے میں تبدیل ہوگیا. بوگیاں ایک دوسرے پر چڑھنے اور اُترنے لگی ، حادثے پر سیاسی ماتم کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے.
حادثے کی وجوہات کی جانچ
اب آگے بڑے چیلنجس ہیں. رات کا اندھیرا گھنا ہو چکا ہے. اس اندھیرے میں مسافروں کی زندگیاں بچانی ہوگی. دہلی سے این ڈی آر ڈی ایف ٹیم روانہ ہوچکی ہیں. ریاستی حکومت نے بھی مورچہ سنبھال لیا ہے. ڈاکٹروں کی ٹیم موقع پر پہنچ چکی ہیں. اس وقت، حادثے کی وجوہات کا بھی پتہ لگایاجارہا ہے
جان ہتھیلی پر کریں ریل کا سفر
عوام کا کہنا ہے کہ یہ ڈرنے والی بات ہے. ایک حادثہ ہوا ہے. اب اس حادثےکی جانچ ہو گی. کمیٹی بنے گی. رپورٹ آئے گی. لیکن پھر کیا ہوگا، وہی ہوگا جو آج کھتولی میں ہوا ہے. کھتولی نہ سہی کوئی اور جگہ سہی . لیکن پھر حادثے ہوں گے۔ پھر لوگوں کی جانیں جائیں گی۔ آپ کو اگر ٹرین پر سفر کرنا ہے تو پھر جان ہتھیلی پر رکھ کر ہی سفر کرنا پڑے گا۔بار بار کے حادثات کو دیکھتے ہوئے عوام سے یہ کہتے سناجارہا ہے کہ ٹرین کے سفر کو محفوظ بنانے کے لئےسسٹم اور سرکار کسی بھی طرح کی کاروائی کرنے کےموڈ میں نظر نہیں آرہی ہے۔