قاہرہ 31دسمبر ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )مصر متنازع شادیوں کے حوالے سے اکثر خبروں کی زد میں رہتا ہے۔ تنازع کا موجب بننے والی ایک نئی خبر بھی مصرسے آئی ہے جہاں ایک بارہ سالہ بچے کی سولہ سالہ لڑکی کے ساتھ شادی کے واقعے نے ایک نیا تنازع پیدا کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جنوب مغربی قاہرہ کے قریب الفیوم کے علاقے میں طے پائی اس شادی میں دلہا کی عمر فقط بارہ سال جب کہ دلہن کی سولہ سوال بتائی جاتی ہے۔یہ شادی سوشل میڈیا پر زیربحث ہے اور اس طرح کی شادیاں کرانے والے والدین کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق دو روز قبل الفیوم کے علاقے میں 12 سالہ احمد شعبان عید کا اس سے عمر میں چار سال بڑی لڑکی کیساتھ نکاح پڑھایا گیا۔تاہم دونوں بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کی یہ شادی نمائشی ہے اور اس میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ دنوں 18 سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد اپنی مرضی سے شادی کی تقریب منعقد کریں گے۔الفیوم کے مقامی شہریوں کا کہنا کہ دلہا اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہے اور خاندان میں دیگر تمام بچیاں ہیں۔ اس کے اہل خانہ کی خواہش تھی کہ بچے کو کم عمری ہی میں شادی کے بندھن میں باندھ دیا جائے۔سوشل میڈیا پر جاری بحث کے دوران یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جب ملک میں شادی کی قانونی عمر اٹھارہ سال ہے اور بچوں کی شادیوں کو جرم قرار دیا گیا ہے تو اس قانون پرعمل درآمد کیوں نہیں کیا جاتا۔ مصر میں کم عمر افراد کی شادی کا یہ پہلا کیس نہیں۔ اس نوعیت کے کئی دوسرے واقعات میں بچوں کے والدین کو عدالتوں میں مقدمات کا بھی سامنا ہے۔