1400مسلم قبرستانوں اور عید گاہوں کی حد بندی ، ہلی کھیڑ (بی)میں وزیر اوقاف کرناٹک تنویر سیٹھ کاتہنیتی جلسہ سے خطاب
ہلی کھیڑ ،30؍مئی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)وزیر اقلیتی بہبود حکومت کرناٹک بڑی تیزی کے ساتھ اقلیتوں کی بہبود کے لئے تیار کی گئی مختلف اسکیموں سے واقف کروانے کے لئے مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کرہاہے ۔کرناٹک میں اقلیتی طبقات کے 14لاکھ بچوں کو اسکالر شپ دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس ، ایم ڈی ایس، بی ای و دیگر پیشہ ورانہ نصابوں کے اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبا کی فیس کی ادائیگی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان سے باہر جاکر اعلیٰ تعلیم حاصلکرنے والے اقلیتی طلبا کو ببھی محکمہاقلیتی بہبود کی جانب سے مالی امداد دی جارہی ہے ۔ ان خیالات کا اظہارجناب تنویر سیٹھ وزیر اقلیتی بہبود ، اوقاف و تعلیم حکومت کرناٹک جناب تنویر سیٹٹھ نے اپنے دورہ ضلع بیدر کے موقع پر ہلی کھیڑ (بی) ضلع بیدر میں 2رمضان کو جامع مسجد ہلی کھیڑ (بی) کی جانب سے ترتیب دی گئی ایک افطار پار ٹی میں شرکت کے بعدمسجد کے روبرو منعقدہ تہنیتی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جناب تنویر سیٹھ نے کہاکہ ان کے وزیر بننے کے بعد اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبا کی مالی امداد اورمستفید ہونے والے طلبا کی تعدادمیں کافی اضافہ ہوا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں ایک اور اسکیم ایسے بچوں کے لئے بھی ہے جن کے پاس تعلیم حاصل کرنے کے لئے رقم نہیں ہے۔ جناب تنویر سیٹھ نے کہاکہ آج ساری دنیا میں مسلمانوں کو کس نگاہ سے دیکھا جارہا ہے اس سے سب ہی واقف ہیں ۔ ایسے حالات میں محکمہ اقلیتی بہبود نے مستحق طلبا و طالبات کو تعلیمی قرضے دینے کا سلسلہ شروع کیاہے ۔ اس پالیسی کے سبب ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس، انجنئیرنگ و دیگر پیشہ ورانہ کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ان کے وزارتی اقلیتی بہبود کا حاصل کرنے کے اقلیتی طبقات کے چھوٹی تجارت کرنے والے افراد کوبھی پچاس پچاس ہزار روپیوں کے قرضے جاری کئے گئے ۔ انھوں نے کہا کہ ان حکومت مسلمانوں کو ہر ممکنہ معاشی امداد فراہم کررہی ہے۔ انھوں ے کہا کہ وہ بالکل بے جھجک بات کرتے ہیں ، ڈرتے ہیں صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں کیوں کہ اسی کو جواب دینا ہے۔ جناب تنویر سیٹھ نے بتایا کہ انھوں نے اپنے وزیر بننے کے ریاست کی انتہائی پس ماندہ مسلم کالونیوں کی ترقی کے لئے 800کروڑ روپئے مختص کردئے ہیں ۔مسلمانوں اور دیگر اقلیتی طبقات کے علاقوں میں اگر اور کچھ کام باقی ہیں تو وہ اس کے لئے مزید دو تین کروڑ روپیوں کے فنڈس جاری کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ پاکی اور صفائی ہمارا نصف ایمان ہے ۔ لیکن مسلمان پاکی و صفائی پر توجہ نہیں دے رہے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ مذہب اسلام کسی کو تکلیف دینے والا مذہب نہیں ہے کیوں کہ دین اسلام میں پڑوسی کا حق اداکرنے کو بھی عبادت کادرجہ دیاگیاہے۔ انھوں نے کہاکہ مسلمان تعلیم سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔تعلیم کو فروغ دینا ضروری ہے۔حدیث شریف ہے کہ علم حاصل کرنے کے لئے چین بھی جانا پڑے توجانا چاہئے ۔انھوں نے کہاکہ ملکھیڑ (بی ) میں مدرسوں کی کمی ہے تو وہ اس کمی کو بھی پوراکرنے کے لئے تیار ہیں ۔وزیراقلیتی بہبودنے کہاکہ انھوں نے اپنے دور وزارت میں شادی خانوں کی تعمیرکے لئے 90کروڑ روپیوں کی مالی امداد دی ہے۔دیہاتوں اور قریوں میں رہنے والے مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے جناب تنویر سیٹھ نے کہا کہ ممتاز قائد جناب رحمٰن خان کے سروے کے مطابق آج بھی50فی صد سے زیادہ مسلمان قریوں اور دیہاتوں میں رہتے ہیں ۔ لیکن ان مسلمانوں کے پاس صرف تین فی صد زمین ہے۔ مسلمان جہاں بھی جائیں انھیں گائے کاٹنے والا کہتے ہیں۔ہم نے گائے اور بکریاں چرانے کی بھی اسکیم شروع کی ہے ۔ ہمارے حضور اکرم ﷺ بکریاں بھی چرایا کرتے تھے۔وزیر اوقاف نے کہا کہ اوقافی معاملات میں ہر سال کے مقابلہ میں سال 2016-17کے لئے انھوں نے 85کروڑ روپئے وقف کی ترقی کے لئے منظور کروائے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کے کئی قبرستان ایسے ہیں جن کی حد بندی نہیں ہوئی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ گزشتہ سال 1400قبرستانوں کی منظوری دی گئی اس کے علاوہ کچھ عید گاہوں کی حد بندی ک لئے بھی منظوری دی گئی۔ان سب کاموں کے لئیے 85کروڑ روپئے منظور کئے گئے ۔ وزیر اقلیتیب ہبودجناب تنویر سیٹھ نے ہلی کھیڑ(بی) کے ملسمانان سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہلی کھیڑ (بی ) میں ایک شادی خانہ کی تعمیرکے لئے انھوں نے 50لاکھ روپیوں کی مالی مدد کی جو درخواست دی ہے وہ اس شادی خانہ کے لئے ایک کروڑ روپئے منظور کرنے کے لئے تیار ہیں اور اسی لحاظ سے وہ پروجیکٹ تیار کرکے انھیں پیشکریں۔ انھوں نے اس موقع پر ہلی کھیڑ(بی ) میں عاشور کانہ کی تعمیرکے لئے بھی 10لاکھ روپئے منظور کرنے کا وعدہ کیا ۔ پھر رکن اسمبلی ہمنا آباد مسٹر راج شیکھر پاٹل کومخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ہلی کھیڑ (بی) کے اقلیتی طبقات کے محلوں کی ترقی کے لئے انھیں تجاویز روانہ کریں ۔ جامع مسجد ہلی کھیڑ (بی ) ضلع بیدر کی انتظامی کمیٹی کی جانب سیترتیب دی گئی افطار پارٹیمسلمانانکی کچیر تعدادشریک تھی ۔ نماز مغرب کے بعد ضلع بیدر کے دورہ پرآئے ہوے خصوصی مہمان کرناٹک کے وزیر تعلیم، اوقاف و اقلیتی بہبود جناب تنویر سیٹھ کے اعزاز میں مسلمانان ہلی کھیڑ (بی ) کی جانب سے جوتہنیتی جلسہ منعقد کیا گیا تھا اس جلسہ میں ا8کتلف مسلم سماجی کارکنان اور تنظیموں کی جانب سے وزیر موصوف کی بکثرت گلپوشی و شال پوشی کی گئی اس جلسہ کی صدارت جناب سید اسد صدر انتظامی کمیٹی ،جامع مسجد ہلی کھیڑ (بی ) نے کی جب کہ رکن اسمبلی ہمنا آباد جناب راج شیکھر پاٹل نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی ۔خصوصی مدعوئین میں ممتازماہر تعلیم پروفیسر سعید احمدمجددی ، سینئیر صحافی و پروپروئیٹر بلد ٹورساینڈٹراویلس جناب حکیم شاکر،ممتاز شاعرانجنئیر عبدالقدیرعرفان چیف ایکزکیوٹیو آفیسر آئیڈیاز اینڈ لاجک اور پروفییسر سعید احمدمجددی کے فرزند سعود مجددی و وزیر پتیل وظیفہ یاب ایجوکیشن آفیسر ہمنا آباد بھی شریک تھے ۔ پروگرام کے اختتام پر جناب تنویر سیٹھ نے ہمنا آباد کا دورہ کیا اور اسی شب ہمنا آباد کے سرکاری گیسٹ ہاؤز میں مقامی شہریان و مسلمانان سے ان کی نمائیندگیاں قبول کیں ۔ ہمنا آباد میں صدر نشین این اے کے آر ٹی سی جناب الیاس سیٹھ باغبان ، ان کے ساتھیوں اور ممتاز سماجی خدمت گزار جناب عبدالماجد پیارے نے وزیر موصوف کا استقبال کیا اور انھیں تہنیت پیش کی ۔