ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اڈپی: رام مندر میں قیمتی نذرانے چڑھانے کے بجائے غریبوں کی خدمت کریں: وشوپرسنّا تیرتھ سوامی

اڈپی: رام مندر میں قیمتی نذرانے چڑھانے کے بجائے غریبوں کی خدمت کریں: وشوپرسنّا تیرتھ سوامی

Sat, 27 Jun 2026 17:12:59    S O News
اڈپی: رام مندر میں قیمتی نذرانے چڑھانے کے بجائے غریبوں کی خدمت کریں: وشوپرسنّا تیرتھ سوامی

اڈپی، 27 جون (ایس او نیوز): ایودھیا کے رام مندر میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے الزامات پر فی الحال تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے، شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کے ٹرسٹی وشوپرسنّا تیرتھ سوامی نے عقیدت مندوں سے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ وہ مندروں میں قیمتی نذرانے پیش کرنے کے بجائے اپنے مالی وسائل سماجی بہبود کے کاموں پر خرچ کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ 11 جولائی کو ہونے والے ٹرسٹ کے اجلاس تک مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔ یہ بات انہوں نے اڈپی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا، “100 کلوگرام چاندی مندر میں عطیہ کرنے کے بجائے اگر عطیہ دہندگان غریبوں کے لیے ایک ہزار مکانات تعمیر کریں تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ محروم طبقات کی خدمت ہی حقیقی رام سیوا ہے۔ معاشرے کی خدمت کے بے شمار مواقع موجود ہیں اور ایسی خدمت بھی بھگوان رام کے نام منسوب کی جا سکتی ہے۔”

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ وشوپرسنّا تیرتھ سوامی نے اس نوعیت کی اپیل کی ہو۔ جنوری 2023 میں انہوں نے کہا تھا کہ مندروں کو عطیات دینے کے بجائے غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کی جانی چاہیے، کیونکہ بعض اوقات مندروں کو دیے گئے عطیات کے غلط استعمال کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ بعد ازاں جون 2023 میں، رام مندر کی تکمیل کے تناظر میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ عقیدت مند ہزاروں یا لاکھوں روپے کی خصوصی سیوا یا قیمتی نذرانے پیش کرنے کے بجائے غریبوں کے لیے مکانات تعمیر کریں، مفت علاج اور تعلیم جیسی فلاحی خدمات فراہم کریں اور ان فلاحی خدمات کو بھگوان رام کے نام منسوب کریں۔

انہوں نے کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے کی جانب سے آر ایس ایس کی رجسٹریشن سے متعلق کیے گئے تبصروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو باضابطہ طور پر رجسٹر کرایا جائے تو تنظیم کے خلاف اس نوعیت کے الزامات اور اعتراضات کی گنجائش کم رہ جائے گی۔

ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے کے مبینہ استعفے سے متعلق خبروں پر انہوں نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق نہ تو ٹرسٹ کے واٹس ایپ گروپ میں کوئی پیغام شیئر کیا گیا ہے اور نہ ہی چمپت رائے نے براہِ راست ان سے کوئی رابطہ کیا ہے۔

عطیہ دہندگان کی شناخت سے متعلق ٹرسٹ کی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دیگر کئی مندروں کے برعکس، رام مندر میں عطیہ دہندگان یا مختلف مذہبی خدمات انجام دینے والوں کی فہرستیں آویزاں نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وشوپرسنّا تیرتھ سوامی نے مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے قائم خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کی مکمل، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر بھارت اور بیرونِ ملک لاکھوں عقیدت مندوں کے اعتماد کا مرکز ہے، اس لیے وہاں اس نوعیت کے واقعات کبھی پیش نہیں آنے چاہئیں اور حقیقت جلد از جلد سامنے آنی چاہیے۔


Share: