کولکاتہ ،28/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) ترنمول کانگریس میں اندرونی اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔ پارٹی کی سربراہ ممتا بنرجی اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کے حامی دھڑے نے پارٹی سے خارج کیے گئے رکن اسمبلی رتبرت بنرجی کی قیادت والے باغی گروپ کے خلاف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کولکاتا اور اس کے نواحی علاقوں کے 4 مختلف پولیس تھانوں میں الگ الگ شکایات درج کرائی ہیں۔
درج شکایات میں سے دو کولکاتا پولیس کے دائرۂ اختیار میں آنے والے کالی گھاٹ اور پرگتی میدان پولیس تھانوں میں جبکہ دیگر دو شکایات بدھان نگر سٹی پولیس کے تحت آنے والے نیو ٹاؤن پولیس تھانے اور بدھان نگر سائبر پولیس تھانے میں درج کرائی گئی ہیں۔ آخری شکایت بیدھان نگر سائبر پولیس تھانے میں جمع کرائی گئی۔
پارٹی کے اقلیتی شعبے سے وابستہ ایک ذریعے کے مطابق چاروں شکایات کا بنیادی نکتہ ایک ہی ہے۔ الزام عائد کیا گیا ہے کہ باغی گروپ نے اپنے اجتماعات اور پروگراموں میں پارٹی کی اجازت کے بغیر ترنمول کانگریس کا نام اور انتخابی نشان استعمال کیا، جبکہ سینئر رکن اسمبلی اروپ رائے کو غیر قانونی طور پر ممتا بنرجی کی جگہ پارٹی کا چیئرپرسن قرار دے دیا۔
پارٹی کے پرانے دھڑے کے ایک رہنما نے دعویٰ کیا کہ 2022 میں منعقد ہونے والی تنظیمی کانفرنس میں نمائندوں نے متفقہ طور پر ممتا بنرجی کو تاحیات پارٹی کا چیئرپرسن برقرار رکھنے کی حمایت کی تھی۔ ان کے مطابق اس کانفرنس میں ووٹ ڈالنے کا حق صرف ان اراکین کو حاصل تھا جو کم از کم پانچ برس سے پارٹی کے رکن تھے، جبکہ پارٹی آئین کے مطابق ایسی تنظیمی کانفرنس ہر پانچ سال بعد منعقد ہوتی ہے، اس لیے آئندہ کانفرنس 2027 میں متوقع ہے۔
رہنما نے مزید کہا کہ اگر اس دوران کوئی غیر معمولی صورتحال پیدا ہو تو خصوصی اجلاس بلانے کا اختیار صرف چیئرپرسن ممتا بنرجی کو حاصل ہے، تاہم باغی گروپ نے ان کی عدم موجودگی میں تنظیمی قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے اروپ رائے کو اپنا چیئرپرسن قرار دے دیا اور اسی بنیاد پر پارٹی کے نام اور انتخابی نشان کا استعمال جاری رکھا، جس کے باعث چار مختلف پولیس تھانوں میں شکایات درج کرائی گئی ہیں۔
دوسری جانب باغی گروپ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پارٹی کے نام، انتخابی نشان اور مالی وسائل پر حق سے متعلق معاملہ پہلے ہی ہندوستانی الیکشن کمیشن کے سامنے زیر غور ہے، اس لیے اس تنازع کا حتمی فیصلہ کمیشن ہی کرے گا۔