کولمبو، 17؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )سری لنکا اقلیتی تمل کمیونٹی تمل بولنے والے مسلمانوں کی خواہشات کو اپنے ساتھ شامل کرنے اور نئی آئینی حکمت عملی کے تحت انہیں ملک کے شمالی حصے میں بسانے کے لیے تیار ہے۔اپوزیشن پارٹی ٹی این اے کے لیڈر نے آج پارلیمنٹ میں یہ بات کہی۔تمل نیشنل الائنس(ٹی این اے) کے سربراہ آر سمپتن نے کہا کہ ان کی پارٹی تملوں اور تامل بولنے والی عوام کے مسائل کوحل کرنے کے لئے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ بے گھر مسلمانوں کی بحالی شمالی حصے میں کروائیں۔نسلی صفائی کی پالیسی کے تحت ایل ٹی ٹی نے 1990میں تامل مسلمانوں کو جافنا سے بھگا دیا تھا،جو جافنا کے شمال مغربی علاقے میں واقع پٹٹالم میں بنے بے گھر کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔سمپتن نے کہا کہ مسلمانوں میں یہ احساس ہے کہ تمل ان کومغرب میں بسنے نہیں دینا چاہتے۔انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ اس ملک کو نیا آئین ملے، اس کی ہمیں سخت ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سب کو آئین کا احترام کرنا چاہئے اور مربوط سری لنکا کے اندر ہی آئین یقینی بنانا چاہیے۔