بنگلورو،8؍اکتوبر(ایس او نیوز)سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق کاویری طاس کے آبی ذخائر کا معائنہ کرنے کیلئے روانہ مرکزی ٹیم نے آج ریاست میں کاویری کے چاروں آبی ذخائر کرشنا راجہ ساگر ، ہیماوتی ، کبنی اور ہارنگی میں پانی کی سطحوں کے معائنہ کا کام مکمل کرلیا ہے۔ مرکزی آبی کمیشن کے چیرمین جی ایس جھا کی قیادت میں آئی ہوئی ٹیم نے ٹیم کے اراکین آر کے گپتا ، مسعود حسین ، کرناٹک ، کیرلا اور تملناڈو کے آٹھ عہدیداروں کے ہمراہ آج کاویری طاس کے آبی ذخائر کا معائنہ دوسرے دن بھی جاری رکھا اور یہاں کے کسانوں سے جانکاری حاصل کی۔ پانڈو پورہ کے بننین ہلی میں ٹیم کی آمد پر منڈیا کے رکن پارلیمان پٹ راجو ، رکن اسمبلی نارائن گوڈا اور دیگر کسانوں نے خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر منڈیا ضلع کے ڈپٹی کمشنر سید ضیاء اﷲ بھی موجود تھے۔ماہرین کی ٹیم نے جہاں بھی معائنہ کیا پایا کہ پانی کی قلت کے سبب کسان طبقہ کافی پریشان ہے۔کرشنا راجہ ساگر علاقہ کے گرام پنچایت صدر اور اراکین نے ان کے آس پاس کھیتوں کو پانی کی عدم دستیابی اور پینے کے پانی کیلئے لاحق مشکلات کا خلاصہ ٹیم کے سامنے رکھا۔ دورہ مکمل کرنے کے بعد مسٹر جھانے بتایا کہ یہ ٹیم کرناٹک کے آبی ذخائر کا مشاہدہ مکمل کرچکی ہے۔اب اس کے بعد دیگر ریاستوں میں پانی کی مقدار کی جانچ کرنے کے بعد اس سلسلے میں رپورٹ سپریم کورٹ کو جلد از جلد پیش کی جائے گی۔ٹیم نے تمام آبی ذخائر میں پانی کی سطح پانی کی قلت کے سبب تباہ حال فصلوں اور دیگر امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اور یقین دلایا کہ پوری دیانتداری کے ساتھ ٹیم اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کے سامنے رکھے گی۔