امرتسر ،30؍دسمبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )رام رحیم کے بعد اب اس کا ایک اوتار پنجاب میں بھی سامنے آیا ہے۔اس بابا کا نام ہے چرنجیت سنگھ چڈا، جو سکھوں کی 115 سال پرانی مذہبی تنظیم ’چیف خالصہ دیوانہ‘کا سربراہ ہے۔دو دن پہلے اس بابا کا ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا۔جس میں وہ ایک اسکول ٹیچر کے ساتھ فحش حرکتیں کرتا دکھائی دے رہا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیو چرنجیت سنگھ کو بلیک میل کرنے کے لئے بنایا گیا تھا اور پیسہ نہیں ملنے پر اس کووائرل کر دیا گیا۔چیف خالصہ دیوانہ ادارہ اکالی دل اور شرومنی گرودوارہ مینیجر کمیٹی سے بھی پرانہ ہے۔یہ ادارہ سماجی، مذہبی کاموں کے ساتھ ساتھ بہت سے اسکولوں اور چیرٹیبل اسپتالوں کو منظم بھی کرتاہے۔جن کا نیٹ ورک پورے پنجاب میں پھیلا ہوا ہے۔الزام ہے کہ چیف خالصہ دیوانہ کا سربراہ سردار چرنجیت سنگھ چڈھا ادارہ کے اسکولوں کی ٹیچرس کا پروموشن کرنے کے عوض میں ان کا جنسی استحصال کرتا تھا۔85 سال کے اس شخص کی حقیقت سے پردہ اس وقت اٹھا جب اس کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا میں وائرل ہوا۔اس ویڈیو میں وہ ایک عورت کے ساتھ فحش حرکتیں کرتا دکھائی دے رہا ہے۔وہ عورت ایک استاد بتائی جا رہی ہے۔ویڈیو میں دکھائی دے رہا ہے کہ وہ اس عورت کے ساتھ سیلفی بھی لے رہا ہے۔لیڈی بھی اپنے فون سے بابا کے ساتھ سیلفی لیتی نظر آرہی ہے۔جانچ میں پتہ چلا ہے کہ من مرضی کے مطابق پروموشن حاصل کرنے کے لئے ٹیچروں کو مجبوری میں اس کے ساتھ یہ سب کرنا پڑتا تھا۔چیف خالصہ دیوانہ ادارہ کے رکن نرمل سنگھ ٹھیکیدار کے مطابق ادارے کے ایک اعلی افسر پروموشن کی خواہش رکھنے والی ٹیچروں کو رنجیت سنگھ چڈھا سے ملواتا تھا۔پروموشن کے بدلے ٹیچر کو اپنا جسم رنجیت سنگھ چڈھا کے حوالے کرنا ہوتا تھا۔سردار رنجیت سنگھ چڈھا کے استحصال کا شکار بنی ایک ٹیچر نے باقاعدہ پریس کانفرنس کر کے اس پر جسمانی استحصال کا الزام لگایا ہے۔ملزم چڈھا نے اس عورت کو اپنے اسکول پرنسپل کے طور پر پروموٹ کیا تھا۔پولیس نے متاثرہ کی شکایت کی بنیاد پر رنجیت سنگھ چڈھا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ کیس درج ہونے کے بعد سے ہی چڈھا فرار ہے۔