نئی دہلی،11/مارچ (آئی این ایس انڈیا)لوک سبھا کی کارروائی میں حصہ لینے پہنچے راہل گاندھی جیوتی رادتیہ سندھیا کے کانگریس چھوڑنے کے سوال پر بچتے نظر آئے۔البتہ اس کے کچھ ہی منٹ بعد انہوں نے ٹویٹ کرکے وزیر اعظم نریندر مودی پر نشانہ لگایا۔
راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ کانگریس کی منتخب حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔اس سے پہلے راہل گاندھی نے لوک سبھا احاطے میں ہی کانگریس کے سینئر رہنماؤں کے ساٹھ میٹنگ کرکے مدھیہ پردیش کے حالات پر تبادلہ خیال کیا۔ راہل گاندھی نے ٹویٹ کرکے پی ایم او سے کہاکہ آپ کانگریس کی منتخب حکومت گرانے میں مصروف ہیں اس لیے عالمی سطح پرتیل کی قیمتوں میں ہوئی 35 فیصد کی کمی کو بھول گئے ہوں گے۔کیا آپ ہندوستان کے لوگوں کو بھی اس کا فائدہ دے سکتے ہیں اور پٹرول کی قیمتوں کو 60 روپے سے نیچے لا سکتے ہیں؟ اس سے معیشت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
دوسری طرف مدھیہ پردیش کا سیاسی ڈراما ریزورٹ سیاست کی طرف بڑھ رہا ہے۔کانگریس کے تقریبا 20 ایم ایل اے پہلے ہی بنگلور کے ایک ہوٹل میں ہیں۔اب بی جے پی اپنے ممبران اسمبلی کو مانیسر اور کانگریس اپنے ممبران اسمبلی کو جے پور لے جا رہی ہے۔کہا جا رہا ہے کہ کانگریس چھوڑنے والے جیوتی رادتیہ سندھیا جلد ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ کانگریس کے 20 سے زیادہ استعفی کے بعد کمل ناتھ کی مدھیہ پردیش حکومت پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔ حالانکہ کمل ناتھ سمیت کانگریس کے تمام لیڈر دعوی کر رہے ہیں کہ ان کی حکومت محفوظ ہے اور وہ اسمبلی میں اکثریت ثابت کریں گے۔کانگریس کا دعوی ہے کہ بی جے پی کے بھی کچھ رکن اسمبلی ان کے رابطہ میں ہیں۔