ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لوک سبھا الیکشن: پانچ مرحلوں کے حلقہ وار ووٹرز ٹرن آؤٹ کا مکمل ڈیٹا جاری

لوک سبھا الیکشن: پانچ مرحلوں کے حلقہ وار ووٹرز ٹرن آؤٹ کا مکمل ڈیٹا جاری

Sun, 26 May 2024 17:06:50    S.O. News Service

نئی دہلی، 26/مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) الیکشن کمیشن نے آج لوک سبھا انتخابات کے پہلے پانچ مرحلوں کے دوران ہر پارلیمانی حلقے میں ڈالے گئے ووٹوں کی قطعی تعداد جاری کی۔ اگرچہ پول ریگولیٹر نے پہلے تمام پانچ مرحلوں کیلئے ووٹر ٹرن آؤٹ کے حتمی فیصد جاری کئے تھے لیکن اس نے ہر حلقے میں ووٹ ڈالنے والے ووٹرز کی اصل تعداد کی وضاحت نہیں کی تھی۔ سنیچر کو کمیشن نے کہا کہ ۱۹؍ اپریل کو ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلے میں ۲۱؍ ریاستوں میں ۱۱؍ کروڑ ۵۲؍ ہزار ۱۰۳؍ شہریوں نے ووٹ دیا۔ دوسرے مرحلے میں ۲۶؍ اپریل کو ۱۳؍ ریاستوں اور یوٹیز میں ۱۰؍ کروڑ ۵۸؍ لاکھ ۳۰؍ ہزار ۵۷۲؍ ووٹروں نے ووٹ دیا۔ تیسرے مرحلے میں ۷؍ مئی کو ۱۱؍ ریاستوں اور یوٹیز میں ۱۱؍ کروڑ ۳۲؍ لاکھ ۳۴؍ ہزار ۶۷۶؍ شہریوں نے ووٹ دیا۔ چوتھے مرحلے میں ۱۰؍ ریاستوں اوریوٹیز میں ۱۲؍ کروڑ ۲۴؍ لاکھ ۶۹؍ ہزار ۳۱۹؍ ووٹ دیئے گئے۔ پانچویں مرحلے میں ۲۰؍ مئی کو ۸؍ ریاستوں اور یوٹیز میں ۵؍ کروڑ ۵۷؍ لاکھ ۱۰؍ ہزار ۶۱۸؍ شہریوں نے ووٹ دیا۔ 

واضح رہے کہ یہ اعداد و شمار سپریم کورٹ کے اس حکم کے ایک دن بعد جاری کئے گئے ہیں جب عدالت نے الیکشن کمیشن کو عام انتخابات کے دوران بوتھ وار ووٹروں کی مکمل تعداد کو عوامی طور پر جاری کرنے کیلئے عبوری ہدایات دینے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے زبانی طور پر مشاہدہ کیا تھا کہ انتخابی عمل کے دوران ’’ہینڈ آف اپروچ‘‘ کی ضرورت تھی۔یہ مشاہدات غیر سرکاری تنظیم اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کی درخواست پر سامنے آئے۔ یہ تنظیم الیکشن کمیشن کو فارم ۱۷؍ سی سے فوری طور پر ڈیٹا جاری کرنے کی ہدایت مانگ رہی تھی، جس میں ای وی ایم میں ووٹوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ یہ عرضی اس لئے دائر کی گئی تھی کیونکہ پولنگ کے پہلے دو مرحلوں کے بعد اس ڈیٹا کو شائع کرنے میں تاخیر ہوئی تھی۔

درخواست میں مطالبہ کیا گیا کہ پولنگ پینل عام انتخابات ۲۰۲۴ء میں ہر مرحلے کی پولنگ کے بعد تمام پولنگ اسٹیشنوں کے فارم ۱۷؍ سی کی اسکین شدہ کاپیاں الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرکے ووٹر ٹرن آؤٹ کے تصدیق شدہ ریکارڈ کا انکشاف کرے۔ تاہم، پول ریگولیٹر نے بدھ کو عدالت کو بتایا تھا کہ اس کے پاس فارم ۱۷؍ سی شائع کرنے کا کوئی قانونی حکم نہیں ہے اور یہ دستاویز صرف امیدواروں یا ان کے ایجنٹوں کو دی جا سکتی ہے۔ سنیچر کو الیکشن کمیشن نے کہا کہ اسے ’’ٹرن آؤٹ ڈیٹا جاری کرنے کے عمل پر سپریم کورٹ کے مشاہدات اور فیصلے سے تقویت ملی۔یہ کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابی جمہوریت کے مقصد کو بغیر کسی رکاوٹ کے حل کرے۔‘‘ 

پول باڈی نے یہ بھی کہا کہ اس نے ’’انتخابی عمل کو خراب کرنے کیلئے جھوٹے بیانیے نوٹ کئے ہیں۔ کوئی بھی، پولڈ ووٹوں کے ڈیٹا کو تبدیل نہیں کر سکتا جو ووٹنگ کے دن فارم ۱۷؍ سی کے ذریعے تمام امیدواروں کے پولنگ ایجنٹوں کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے۔‘‘اس نے یہ بھی کہا کہ، ووٹر ٹرن آؤٹ کا ڈیٹا ’’امیدواروں اور شہریوں کیلئے ووٹر ٹرن آؤٹ ایپ پر ہمیشہ دستیاب ہے۔‘‘


Share: