چنتامنی:7 /فروری (محمد اسلم/ایس او نیوز)آج کرناٹک راجیہ رعیتا سنگھا کے کارکنوں نے مختلف مطالبات کو لیکر تعلقہ دفتر کے روبرو احتجاجی دھرنا دیا جس سے خطاب کرتے ہوئے راجیہ رعیت سنگھا کے ریاستی صدر جے۔راگھونات ریڈی نے کہا کہ تعلقہ کے ہر گرام پنچایت کے حدود میں گؤشالہ کا قیام کیا جائے جبکہ مویشویوں کو مفت میں چارہ مہیا کیا جائے گرام پنچایتوں میں شدید پانی کی قلت ہے اس مسئلے کو فوراََ حل کیا جائے قحط سالی کا شکارتعلقہ میں ایک ایکڑ زمین رکھنے والے کسانوں کو حکومت کی طرف سے 25ہزار روپئے قحط سالی کا معاوضہ دیا جائے نریگا منصوبے کو ہر گرام پنچایت میں شروع کیا جائے ۔
رگھوناتھ ریڈی نےکہا کہ ملک کی ریڑھ کی ہڈی کہلانے والی زراعت تباہی کے دھانےپر آکھڑی ہے جہاں سے واپس آنا ناممکن ہوتا جارہا ہے آزادی سے قبل ہمارے ملک میں 75فیصد افراد کی زندگی کا انحصارزراعت پر مشتمل تھا لیکن اب تک یہی زراعت گھٹ کر چالیس فیصد ہوگئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں چاہئے کوئی پارٹی اقتدار پر آئے لیکن سب کا رویہ رعیتوں کے تئیں غیر منصفانہ ہی ہوتا ہے حکومتیں اقتدار حاصل کرنے سے قبل رعیتوں کو سنہرے خواب دکھلاتے ہیں جب اقتدار حاصل ہوجاتا ہے تو عیاری پر اتر آتے ہیں گوپی ناتھ ریڈی نے کہا کہ ترقی یافتہ اس دور میں بھی رعیت قرضوں کے خوف سے گھبرا کر خود کشی کررہے ہیں ملک کی خوشحالی کا انداز اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب اس ملک کا بچہ بھوک اور فاقہ سے نہ مرے اور رعیت خود کشی کرنے پر مجبور نہ ہوجائے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ملک میں بچے بھوک اور فاقہ سے مررہے ہیں اور رعیت خود کشی کررہے ہیں ایوانوں میں بیٹھ کر سبز انقلاب کے نعرے لگوانے والوں کو چاہئے کہ وہ ایر کنڈیشن کے بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرنے کے بجائے زراعت کو بچانے اور کا شتکاروں میں بیداری لانے کیلئے سڑکوں پر اتر کرسبز انقلاب کی تحریک چلائیں اور جتنا روپیہ ملک کی حفاظت کیلئے خرچ کیا جارہا ہے اسکا نصف حصہ زراعت کے شعبے میں انقلاب لانے کیلئے استعمال کریں تو عین ممکن ہے کہ ہمارا ملک نہ صرف خوشحال ملک کہلانے کا مستحق ہوگا بلکہ دیگر ممالک کو اناج تقسیم کرنے والا ملک بن جائیگا۔احتجاج کے بعد مختلف مطالبات پر مشتمل میمورنڈم وزیر اعلیٰ کے نام پر تحصیلدار کو پیش کیا گیا۔ اس احتجاجی دھرنا میں راجیہ رعیت سنگھا کے جنرل سکریٹری کے۔وینکٹ رامیا سکریٹری بی۔وی۔شری رام ریڈی کے۔وی۔رمپا وی۔ناگراج این۔وینکٹ ریڈی وغیرہ موجود تھے ۔