نئی دہلی،9/مارچ (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ون رینک ون پنشن کی مانگ کو لے کر گذشتہ سال نومبر میں جنتر منتر پر خود کشی کرنے والے سابق فوجی رام کر شن گریوال کو ایک کروڑ کا معاوضہ دینے پر لیفٹیننٹ گورنر اور دہلی حکومت کے درمیان تکرار شروع ہو گئی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کی طرف سے مہلوک رام کرشن گریوال کو ایک کروڑ روپے کی امدادی رقم والی فائل لوٹانے پر حکومت نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے، جبکہ لیفٹیننٹ گورنر سیکرٹریٹ نے دلیل دی ہے کہ رام کرشن گریوال دہلی کا نہیں ہریانہ کا رہائشی ہے، وہ آپ حکومت کی طرف سے دہلی کے باشندہ فوجی، پولیس اور پیراملٹری کے جوان کی ڈیوٹی کے دوران موت ہونے پر اس کے اہل خانہ کو ایک کروڑ کا معاوضہ دینے والی پالیسی کے دائرے میں نہیں آتے۔ اسی لئے مذکورہ شرط پوری نہیں ہونے پر گریوال کو یہ رقم نہیں دی جا سکتی۔
اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے وزیر اعلی اروند کجریوال نے مرکزی پر نشانہ لگایا۔ انہوں نے ٹویٹ کرکے کہا کہ نریندر مودی، فوجی مخالف ہیں۔ مودی جی خود فوجیوں کو ڈھنگ کا کھانا تک نہیں دیتے، ہم مہلوک فوجی کے خاندان کو کچھ دے رہے ہیں تو کیوں روک رہے ہیں۔وہیں نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے کہا کہ سرجیکل اسٹرائیک کرکے لوٹے فوجی کے نام پر مرکزی حکومت اترپردیش میں تو سیاست کرتی ہے لیکن انہیں حق نہیں دیتی، جبکہ پانی اور ثقافت وزیر کپل مشرا نے کہا کہ جب ملک کے کھلاڑی احترام حاصل کر سکتے ہیں تو فوج اور فوجیوں کے اعزاز کی لڑائی لڑنے والے کو عزت دیے جانے میں کیا دقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رام کرشن کو ایک کروڑ کا معاوضہ دینے سے روکنے کے پیچھے کون ہے۔