پتور 10؍اکتوبر(ایس او نیوز) وز یر اعلیٰ کرناٹک سدارامیا نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے ایسے تمام اہم ترین محکمہ جات میں خالی عہدوں پر بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ عوامی لازمی خدمات انجام دیتے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے پتور کے کوئیلی نامی مقام پر ویٹرنیٹی میڈیکل کالج(مویشیوں کے علاج کا طبی کالج) کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے یہ بات کہی۔
انہوں نے کہا کہ مالیاتی کمی رہنے کے باوجود مویشی پالن، ریوینیو، زراعت جیسے اہم اور ضروری عوامی خدمات انجام دینے والے محکمہ جات میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کا عمل جاری ہوچکا ہے۔مویشی پالن محکمہ کے لئے 650ویٹرنیٹی ڈاکٹروں کی تقرری کے لئے احکامات جاری کر دئے گئے ہیں۔انسانوں کی طرح جانور بھی ہمارے ملک کااثاثہ ہیں اوران کی حفاظت ہمارے فرائض میں شامل ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک لیٹر دودھ کو 4روپیہ سرکاری قیمت طے کرنے سے روزانہ کسانوں کو 3کروڑ روپے ادائیگی ہو رہی ہے۔اس سے کسانوں کے کھاتے میں سالانہ 1000کروڑ روپے چلے جاتے ہیں۔اور یہ دیہی علاقوں کو پہنچنے والی رقم ہوتی ہے۔جبکہ اس قسم کا بہترین نظام پورے ملک میں کسی اور جگہ موجود نہیں ہے۔انہوں نے مزید یہ بھی بتایا کہ اسکولی بچوں کو جو دودھ پینے کے لئے دیا جاتا ہے اس کو پورے ہفتے بھر دئے جانے کے سلسلے میں حکومت تجویز پر غور کررہی ہے۔امسال 26000افراد کو پشو بھاگیہ اسکیم کے تحت امداد فراہم کی گئی ہے۔ریاست میں مزید 43نئے تعلقہ جات تشکیل دینے کا مطالبہ بھی عوام کی طرف سے کیا جارہا ہے۔اس ضمن میں تین کمیٹیوں کی رپورٹ حکومت کے پیش نظر ہے۔جب نئے تعلقہ جات تشکیل دیتے وقت کڈبا تعلقہ بھی تشکیل دیا جائے گا۔
اجلاس میں مویشی پالن وزیر اے منجو، وزیر جنگلات بی رماناتھ رائے، وزیر غذا یو ٹی قادر وغیرہ نے اظہار خیال کیا۔ سولیا علاقہ کے ایم ایل اے مسٹر ایس انگار نے جلسے کی صدارت کی۔ ایم ایل اے محی الدین باوا، شکنتلا شیٹی،ضلع پنچایت صدر میناکشی وغیرہ جلسہ میں موجود تھے۔ضلع ڈی سی ڈاکٹر کے جی جگدیش نے استقبال کیا۔ کرناٹکا مویشی پالن یونیورسٹی کے وائس چانسلر آر وی پرساد نے شکریہ ادا کیا ۔