قاہرہ17ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مصر میں جمعے کے روز فوت ہونے والی 85 سالہ عمر رسیدہ خاتون زینب السید محفوظ کے اہل خانہ نے اْن کی موت کی اصل وجہ کا انکشاف کیا ہے۔ ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر سرگرم حلقوں نے مذکورہ خاتون کے بیٹے پر الزام عائد کیا تھا کہ اْس نے اپنی بیوی کو خوش کرنے کے واسطے ماں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا یہاں تک کہ وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔
زینب خاتون کی سب سے بڑی بیٹی رجاء نے بتایا کہ ان کی ماں پر فالج کا حملہ ہوا تھا جس کے بعد وہ مبرہ بورسعد ہسپتال میں انتقال کر گئیں۔ رجاء نے باور کرایا کہ اس کا بھائی ان کی ماں کی موت کے حوالے سے بے قصور ہے اور اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر جو کچھ پھیلا ہوا ہے وہ سب بے بنیاد ہے۔رجاء کے مطابق اس کی ماں اپنی بہو امل کی سراہتی تھی اور اس کے اچھے برتاؤ کی تعریف کیا کرتی تھی۔ رجاء کے مطابق سوشل میڈیا پر اس کے بھائی اور بھابھی کے خلاف مہم کا مقصد چند گھٹیا سوچ کے حامل افراد کی جانب سے خاندان کو بدنام کرنا ہے۔رجاء نے بتایا کہ اس کی ماں کو 13 ستمبر کو مبرہ بورسعید ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اس موقع پر چوتھی منزل کا نجی کمرہ رجاء کے نام سے ہی لیا گیا تھا۔ مریضہ 14 ستمبر تک اسی کمرے میں رہی اور پھر اسے انتہائی نگہداشت کے یونٹ منتقل کر دیا گیا جہاں وہ جمعے کے روز انتقال کر گئی۔ رجاء کے مطابق ماں کے انتقال تک اس کے بھائی بھابھی سمیت خاندان کے تمام افراد مسلسل متوفیہ کو دیکھنے کے لیے آتے رہے۔