نئی دہلی، 15؍ دسمبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے سماجی کارکن تیستا سیتلواڑکے ذاتی بینک اکاؤنٹس سے لین دین پرعائد پابندی ہٹانے کی درخواست پر مبنی عرضی کو درخواست گجرات ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی تیستا، ان کے شوہر اور ان کے دو این جی اوز کی آج درخواستیں مسترد کردی گئیں۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں ایک بنچ نے کہا کہ درخواستوں کو مسترد کر دیا گیا ہے۔سیتلواڈ ان کے شوہر جاوید آنند اور ان کے دو غیر سرکاری تنظیم ’’ سب رنگ ‘‘ اور سیٹزن فار جسٹس اینڈ پیس ‘‘ نے سال 2002 کے گجرات فسادات متاثرین کے لئے ان کے این جی او کو ملی رقم کے مبینہ غلط استعمال کے معاملے میں ہائی کورٹ کے سات اکتوبر 2015 حکم چیلنج کیا گیا تھا۔عدالت نے اس سال اپنے 5 جولائی کو فیصلہ محفوظ رکھا تھا ۔ اس سے قبل عدالت عظمی نے سیتلواڈ اور دیگر کے بینک اکاؤنٹس میں ہورہے مبینہ اضافہ کے ذرائع کے متعلق سوالات کیے تھے ۔ واضح ہو کہ غلط استعمال کے الزامات کے بعد احمد آباد پولیس نے 2015 میں ان اکاؤنٹس میں ٹرانزیکشن کو روک دیا تھا۔ گلبرگ سوسائٹی کے ایک رہائشی فیروز خان پٹھان نے سیتلواڈ اور دیگر کے خلاف شکایت درج کراتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ 2002 گجرات فسادات میں مارے گئے 69 لوگوں کی یاد میں گلبرگ سوسائٹی میں یادگاری عمارت بنانے کے لئے فنڈز جمع کیا گیا تھا لیکن اس رقم کا استعمال اس کے مقاصد کی تکمیل میں نہیں ہوا۔ گلبرگ سوسائٹی کو یادگار میں تبدیل کرنے کے لئے جمع کئے گئے 1.51 کروڑ روپے کے غبن کے معاملے میں احمد آباد پولیس کی کرائم برانچ نے جانچ شروع کی تھی جس کے بعد پولیس نے اکاؤنٹس سے لین دین پر پابندی لگا دی تھی ۔ اس صورت میں ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے کہا تھا کہ غبن کے اس مبینہ معاملہ کی تفتیش کی جانی چاہیے ۔