مقبوضہ بیت المقدس،9؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں قائم غیرقانونی یہودی کالونیوں اور ان میں قائم کارخانوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات کے عالمی سطح پر بائیکاٹ پر صہیونی ریاست کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے بعد اسرائیلی حکومت متبادل ذرائع استعمال کرنے اور اپنی مصنوعات کو دیگر طریقوں سے فروخت کرنے کے لیے کوشاں ہے۔اسرائیل کے عبرانی زبان میں شائع ہونے والے اخبارمعاریف نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہودی کالونیوں کی مصنوعات کو متنازع قرار دے کر ان کے بائیکاٹ پر اسرائیلی حکومت کو عالمی منڈی میں اپنی مصنوعات کی فروخت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی وزارت اقتصادیات اور وزارت زراعت نے BDS(بائیکاٹ تحریک)کے اثرات کم کرنے اور مصنوعات کو متبادل طریقوں سے فروخت کرنے کے لیے از سر نو منصوبہ بندی کا فیصلہ کیا ہے۔
عبرانی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں وزارتوں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ جن یہودی کالونیوں کا مصنوعات کی وجہ سے بائیکاٹ کیا گیا ہے انہیں اضافی سبسڈی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ان کالونیوں میں مصنوعات تیار کرنے والی 50کمپنیوں کو اپنی مصنوعات دنیا کے دوسرے ممالک تک پہنچانے کیلیے اضافی امداد مہیا کی جائے گی۔ حکومت کی طرف سے بائیکاٹ تحریک کے اثرات سے بچنے کے لیے آن لائن خریدو فروخت پر توجہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ براہ راست صارفین تک اسرائیل کے اندر ہی سے اشیاء پہنچائی جا سکیں۔خیال رہے کہ فلسطین کے مقبوضہ عرب علاقوں میں قائم اسرائیل کی غیرقانونی یہودی بستیوں میں قائم کارخانوں اور ان کی مصنوعات کو بھی متنازع قرار دے کران کی عالمی سطح پر خریدو فروخت کے بائیکاٹ کی تحریک چل رہی ہے۔ اس تحریک نے صہیونی ریاست کو اپنی مصنوعات متبادل ذرائع سے گاہکوں تک پہنچانے کی منصوبہ بندی پر مجبور کیا ہے۔