ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / طیاروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیوں کے معاملے میں مرکز کا سخت رویہ، نئے قانون میں تبدیلیوں کا امکان

طیاروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیوں کے معاملے میں مرکز کا سخت رویہ، نئے قانون میں تبدیلیوں کا امکان

Mon, 21 Oct 2024 18:05:33    S.O. News Service

نئی دہلی، 21/اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) پچھلے کچھ دنوں سے ملک کی تمام ایئرلائنز کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اس صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سنٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کے ڈائریکٹر جنرل آر ایس بھٹی اور سول ایوی ایشن سیکورٹی بیورو (بی سی اے ایس) کے ڈائریکٹر جنرل ذوالفقار حسن نے مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دھمکیوں کے ممکنہ اثرات اور ان سے نمٹنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بات چیت کی گئی۔

اس میٹنگ میں وزارت داخلہ کو قومی اور بین الاقوامی پروازوں کو موصول ہونے والے فرضی کال کے بارے میں جانکاری دی گئی۔ مرکزی حکومت نے اس معاملہ کو سختی سے حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ساتھ ہی قانون میں بدلاؤ لا کر قصورواروں کو جرمانے کے ساتھ ساتھ سخت سزا بھی دینے کا ارادہ کیا ہے۔

شہری ہوابازی کے وزیر رام موہن نائیڈو کنجراپو نے طیاروں کو بم سے اڑانے والی دھمکی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر ضرورت پڑی تو ہم نے وزارت کی طرف سے کچھ قانونی کاروائی کے بارے میں بھی سوچا ہے۔ ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ہم دو شعبوں میں کام کر سکتے ہیں۔ 1۔ طیارے کے حفاظتی قوانین میں ترمیم۔ ان قوانین کے تحت ہم جو اقدام کرنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایسے مجرمین جب گرفت میں آ جائیں تو ہم انہیں ’نو-فلائنگ‘ فہرست میں ڈالیں گے۔ 2۔ سول ایوی ایشن سیفٹی ایکٹ کے خلاف غیر قانونی کاموں کو ختم کرنا۔‘‘ انھوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہم اسے قابل شناخت جرائم کی فہرست میں ڈال رہے ہیں، اور اس ترمیم کی بنیاد پر جرمانے کے ساتھ سزا بھی دی جائے گی۔

اس درمیان طیاروں کو بم سے اڑانے کی مل رہی مسلسل دھمکیوں کے پیش نظر وزارت داخلہ نے ہوائی اڈوں پر احتیاطاً سیکورٹی کے انتظامات سخت کر دیئے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر طیاروں کو بم سے اڑانے کی دھمکی دینے والوں کے ’ایکس ہینڈل‘ کو بلاک کر دیا گیا ہے۔ پچھلے ہفتے سے اب تک 100 سے زیادہ طیاروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔ تمام دھمکیاں افواہ ثابت ہوئی ہیں۔


Share: