تروونت پورم،8 ؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )طلبا ء کو مبینہ طور پر قابل اعتراض چیزیں پڑھانے اور اسلام کے لیے اپنی جان نچھاور کرنے کی تعلیم دینے کے سلسلے میں کوچی کے ایک اسکول کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔پولیس کو شبہ ہے کہ کورس مشہور اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائک کے قریبی لوگوں نے تیار کیا ہے۔ایرناکلم کے تھمانم میں واقع پیس انٹرنیشنل اسکول کو کچھ بااثر مقامی تاجروں کی قیادت والا ایک ٹرسٹ چلاتا ہے۔پولیس ذرائع نے میڈیا سے کہا کہ پولیس نے اسکول پرنسپل، انتظامیہ اور تین ٹرسٹی کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 153اے اور 34کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔معاملہ ایرناکلم ضلع ایجوکیشن افسر کی طرف سے دائر ایک رپورٹ کی بنیاد پر درج کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ وہاں جو پڑھایا جا رہا ہے وہ سیکولر نہیں ہے۔ذرائع نے کہاکہ نصاب میں طلباء کو قابل اعتراض چیزیں پڑھانے کے لیے یہ معاملہ درج کیا گیاجو کہ سیکولر نہیں ہے۔اسلامی کورس پڑھایا جا رہا ہے اور طلباء کو اسلام کے لیے اپنی جان نچھاور کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔اسکول میں ایل کے جی سے لے کر آٹھویں جماعت تک کی تعلیم ہوتی ہے۔ذرائع نے کہاکہ ہمیں شبہ ہے کہ اسکول کا کورس اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے قریبی لوگوں نے تیار کیا ہے جو ممبئی میں رہنے والے اسلامی انٹرنیشنل اسکول سے جڑے ہوئے ہیں۔عبدالراشد نے اسکول کے افسر برائے تعلقات عامہ کے طور پر کام کیا تھا۔راشد کیرالہ کے ان 21لوگوں میں شامل ہے، جو لاپتہ ہیں اور جن کے آئی ایس آئی ایس سے منسلک ہونے کا شبہ ہے۔اس کی بیوی اسکول میں ٹیچر تھی۔دہشت گرد تنظیم سے تعلقات کے شبہ کو لے کر حال ہی میں کیرالہ سے 6 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔