دربھنگہ،3؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)شریعت اسلامی مسلمانوں کے نزدیک جان و مال سے بھی زیادہ عزیز رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔اورقرآن و سنت کی تشریح وہی شخص کرسکتا ہے جس کے پاس اتھاریٹی ہے یعنی علماء و مفتیان۔ قرآن کی تشریح میں جب حفاظ کرام کا بھی کوئی دخل نہیں ہوسکتا تو پھر حکومت، پارلیامنٹ یا سپریم کورٹ کو کیسے یہ اختیار دیا جاسکتا ہے کہ شرعی معاملات میں براہ راست دخل اندازی کرے ۔ یہ باتیں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر نظرعالم نے پریس بیان میں کہی ہے ۔ انہوں نے مرکز کی نریندر مودی حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا بھارت جیسا جمہوری ملک ہٹلرشپ سے چلے گا؟ شریعت اور قرآن و سنت کی تشریح نریندرمودی، امت شاہ اور ارون جیٹلی کریں گے؟پارلیامنٹ اور سپریم کورٹ کو شریعت اور قرآن و سنت میں دخل اندازی کی اجازت کس نے دی ہے ؟سپریم کورٹ کا کام ہے موجودقانون کے مطابق فیصلہ دینا نہ کہ قرآن و سنت کی تشریح کرنا۔ آج کل نام نہاد مسلم ایم جے اکبر، مختارعباس نقوی، شاہنواز حسین جو خود کو مسلم خواتین کاہمدرد بن کر حقوق دلانے کا ڈھونگ کررہے ہیں ۔ جبکہ ہمارا دعویٰ ہے کہ ایسے لوگوں کو شریعت کی باتیں تو دور دو چار سورتیں بھی یاد نہیں ہونگی؟ مسٹرنظرعالم نے مزید کہا کہ طلاق ثلاثہ کے موجودہ قانون کو آئین ہندکی روح و بنیادی مذہبی حقوق کے خلاف طاقت کا غلط استعمال بلکہ ہٹلرزم کی تازہ مثال قرار دیتے ہوئے سبھی سیاسی پارٹیاں جو خود کو سیکولر کہتی ہیں کو نصیحت دیتے ہوئے کہا کہ سیکولرزم اور آئین کا ساتھ دیں، ہٹلرزم کا ساتھ ہرگز نہ دیں ساتھ ہی ملک کے امن چین کو خطرے میں ڈال کر ملک کو برباد ہونے سے بچائیں۔مسٹر عالم نے بھاجپا کو چھوڑتمام سیاسی پارٹیوں پرتعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف سیکولرزم کی بقاء کی بات کرتی ہیں اور ایک ممبر نے سیکولرزم کے خلاف کچھ کہہ دیا تو آپ پارلیامنٹ نہیں چلنے دے رہے تھے لیکن اب یہاں بنیادی حقوق اور عائلی قوانین پر شب خون مارا جارہا ہے تووہ خاموشی اختیار کرکے ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔مسٹرعالم نے کہا کہ مسلم خواتین کے حقوق دلانے کے نام پرنہ صرف مسلم خواتین کو سازش کا شکار بنایا جارہا ہے بلکہ مسلمان مردوں کو بڑی تعداد میں جیل میں ڈالنے کی حکومت کی ناپاک سازش بھی چل رہی ہے جسے کسی بھی حال میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا۔مسٹرنظرعالم نے کہا کہ جب تین طلاق کو غیرقانونی قرار دیا جارہا ہے تو آخر کس بنیاد پر گزار بھتہ عورتوں کو مہیا کرایا جائے گا اور جب طلاق کو غیرقانونی قرار دے دیا یعنی طلاق ہوا ہی نہیں تو پھر ایک عورت کو کس بنیاد پر بچوں کی پرورش دی جاسکے گی، جیساکہ بل میں شامل دفعہ 6 میں نابالغ بچوں کی پرورش مسلم عورت کو دئیے جانے کی بات کہی گئی ہے۔ نظرعالم نے کہا کہ یہ بل دستورہند کی مذہبی آزادی کی دفعہ 25 سے متصادم ہے، بظاہر بل کے لانے کا مقصد مطلقہ خواتین کے حقوق کا تحفظ بتایا گیا ہے، لیکن جب تین طلاق واقع ہی نہیں ہوگی تو پھر سزا کیوں کر دی جاسکتی ہے۔ پھر بل کی دفعہ 5 میں کہا گیا ہے کہ طلاق دینے والا مرد اپنی بیوی اور بچوں کا خرچ اٹھانے کا بھی ذمہ دار ہوگا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو مرد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوگا وہ کس طرح اپنے بیوی بچوں کی کفالت کرسکے گا۔ تین سال کی سزا کاٹ کر آنے والے مرد سے یہ توقع کیسے کی جاسکے گی کہ وہ بیوی کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار سکے گا۔ اس بل کے ذریعہ موجودہ حکومت نے حقیقت سے پرے قانون بنانے کی کوشش کرکے اپنی نااہلی، کم عقلی کا پورا پورا ثبوت دیا ہے۔ آخر جلدی کس بات کی تھی، اگر حکومت مخلص ہوتی تو علماء اورمفتی سے مشورہ کرتی، بل مسودہ علماء کے علاوہ پارلیمانی کمیٹی سلیکٹ اسٹینڈنگ کمیٹی وغیرہ کو پیش کرکے کل جماعتی میٹنگ کرکے ملک کی مسلم تنظیموں اور علماء و دیگر کو مطمئن کرکے کوئی قدم اٹھاتی، ان سب کو چھوڑ کر حد درجہ جلد بازی میں قدم اٹھانا ہی بتلا رہا ہے کہ حکومت کی نیت میں کھوٹ ہے۔نظرعالم نے زور دیکر کہا کہ عورتوں سے ہمدردی کے نام پر ملک میں پلاننگ کے ساتھ اکثریت کا ذہن خراب کرنے کی باقاعدہ مہم چل رہی ہے جو ملک کے لئے بہت نقصاندہ ہے، جس کا زہر پھیلانے والوں کو ابھی اندازہ نہیں ہے کہ وہ تھوڑے سے مفاد اور محض اپنی کرسیاں بچانے کیلئے کتنا گندہ، گھناؤنا اور خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں، کیوں کہ کہیں بھی زہرپھیلانا آسان ہوتا ہے لیکن پھیل جانے کے بعد اس کی کاٹ بہت مشکل ہوجاتی ہے۔موجودہ حکومتوں اور نام نہاد سیکولر پارٹیوں سے اپیل ہے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ملک میں نفرت کی زہر نہ پھیلائیں ورنہ اگر یہ زہر پھیل گیا تو بڑے مسائل پیدا ہوجائیں گے۔ مسلمانوں کو گالیاں، قتل، بھیڑ کے ذریعہ قتل اور صرف قتل ہی نہیں بلکہ اب تو ادھر کچھ دنوں سے کمزوروں کو پیٹ پیٹ کر زندہ جلانے تک کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ حکومتیں ان سب کو تو کنٹرول کر نہیں پارہی ہیں اور چلے ہیں مذہب پر حملہ کرنے، یہ زہر ملک کے لئے بہت نقصاندہ ہے۔ اس لئے بھاجپا اور دیگر سیاسی پارٹیاں بھی عقل و شعور سے کام لیں، مسلمانوں کے مذہب کے ساتھ بالکل بھی کوئی کھیل نہ کھیلیں یہ اچھی بات نہیں ہے۔ مسٹرنظرعالم نے اخیر میں کہا کہ دو دنوں کے اندر متھلانچل کی سبھی ملی، فلاحی و رفاہی تنظیموں سے رابطہ کرکے متھلانچل میں ایک احتجاجی مظاہرہ کا اعلان کیا جائے گا جس میں سبھی لوگ ایک پلیٹ فارم کے تحت حکومت کی طلاق ثلاثہ بل کے خلاف اپنا احتجاج درج کرائیں گے۔