حیدرآباد،28؍دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مولانا حا فظ پیر شبیر احمد صاحب صدر جمعیتہ علماء تلنگانہ و آندھرا پر دیش نے لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ پر بل پیش ہو نے کی وجہ سے اس دن کو آزاد ہندوستان کی70 سا لہ تاریخ کا بدترین دن قرار دیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ مر کزی حکو مت نے عورتوں کے حقوق کی حفاظت کا نام لیکر با لآخر طلاق ثلاثہ کے بل کولوک سبھا میں پیش کیا ، اسطرح کا بدبختانہ اقدام کرنے کی جسا رت آج تک کسی بھی حکو مت نے نہیں کی ،اس وقت کی مرکزی حکومت نے اس طرح کی جسا رت کر کے جوقا نون بنانے کو شش کی ہے یہ شریعت میں مدا خلت ہے ۔
انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت نے اس طرح کا اقدام کر نے سے قبل نہ کسی علماء کرا م ، مفتیان عظام اور نہ مشا ئخین عظام اور نہ ہی مسلم پر سنل لاء بورڈ سے اس سلسلہ میں بات کی ، اور نہ ہی انہوں نے اس کو ضروری سمجھا ، اگر کو ئی مسلمان اس پر عمل کرے گا تو وہ شریعت کے خلاف ہوگا اور اگر اس پر عمل نہ کیا تو قانون کے اعتبار سے اس کو تین سال کی سزا ہو گی ۔انہوں نے مرکزی حکومت سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ اس بل کو واپس لے یا اس پر نظر ثانی کریں ،ورنہ آگے بھی شریعت میں مداخلت کر نے کی راہ ہموار ہو جا ئے گی ۔