نئی دہلی،یکم جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ کا پانچ روزہ اجلاس امیرجماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین عمری کی صدارت میں پالا گھاٹ کیرلہ کہ ماؤنٹ سینا اسکول میں اختتام پذیر ہوا۔ اجلاس میں(۱) تین طلاق پر مرکزی حکومت کے مجوزہ قانون (۲) ملک میں امن و امان اور معیشت کی بگڑتی ہوئی صورت حال (۳) عالم اسلام میں بیرونی مداخلت اور(۴) یروشلم میں امریکی سفارت خانہ کی منتقلی کا ٹرمپ کے اعلان پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر منظور کی گئی قراردادوں میں کہا گیا کہ تین طلاق سے متعلق مرکزی حکومت کا قانون غیر ضروری، خلاف حق ،شریعت اور دستور ہند کے خلاف، اندرونی تضادات پرمبنی اور خواتین کے حقوق اور مفادات کے خلاف ہے ، جس میں تین طلاق دینے والے مرد کے لیے تین سال کی قید اور جرمانہ کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ مرکزی شوریٰ کا احساس ہے کہ یہ بل نہ صرف دستور ہند کی مذہبی آزادی کی دفعہ 25 سے متصادم ہے بلکہ تین طلاق پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بھی خلاف ہے، بل میں جب تین طلاق کو باطل قرار دے دیا گیاتو پھر اس پر سزا کا کیا جواز ۔ بل میں طلاق دینے والے مرد کو بیوی اور بچوں کی کفالت کا بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جیل میں قید شخص بیوی اور بچوں کی کفالت کیسے کرسکے گا۔ قرار داد میں اس بات پر حیرت اور تشویش کا اظہار کیا گیا کہ قانون شریعت سے متعلق بل لاتے وقت سرکار نے مسلم علماء ، دینی و ملی تنظیموں اور خواتین کی نمائندہ تنظیموں سے مشورہ کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں سمجھی۔مجلس شوریٰ نے ملک میں امن و امان کی بگڑتی صورت حال ، قانون شکنی کے مسلسل واقعات ، بدحال معیشت اور جمہوری اداروں کو بے اثر بنا دیے جانے پر گہری تشویش کااظہار کیا۔ راجستھان میں ایک مسلم مزدور کو زندہ جلانے والے ملزم کی گرفتاری پر احتجاج نے یہ بات ثابت کردی کہ ان واقعات کا تعلق عام جرائم سے نہیں ہے بلکہ ان کی پشت پر منظم سیاسی طاقتیں موجود ہیں۔ قرارداد میں مسلمانوں، عیسائیوں، آدیباسیوں اور دلتوں کے خلاف ہونے والے تشدد کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کہا گیا کہ ملک میں فرقہ وارانہ تفرقہ کو بڑھانے کی منظم کوششیں ہو رہی ہیں۔اجلاس میں ملک کی معاشی صورت حال پر گہری فکر مندی کااظہار کیا گیا ۔ قرار داد میں کہا گیاکہ روزگار کے کم ہوتے مواقع، کرنسی کی تنسیخ اور جی ایس ٹی کے غلط نفاذ نے ملک کی معیشت کو غیر معمولی نقصان پہنچایا ہے۔ قرار دادمیں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ بالواسطہ ٹیکس کا تناسب کم کیا جائے اور جی ایس ٹی کونسل کو احتساب کے دائرے میں لایا جائے۔ قرار داد میں مجوزہ ایف آر ڈی آئی بل میں ’بیل ان‘ کا جو طریقہ تجویز کیا گیا ہے اس پر فکر مندی کا اظہار کیا گیا ۔ شوریٰ نے ریزرو بینک کی خصوصی کمیٹی کی بلا سودی ونڈو کی سفارش کو حکومت کی جانب سے مسترد کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ شوریٰ کے اجلاس نے ملک میں جمہوری قدروں کے زوال اور جمہوری اداروں کی کمزوری واستحصال پر بھی گہری تشویش اور فکر مندی کااظہار کیا۔ شوریٰ کے نزدیک ریزرو بینک آف انڈیا، سینٹرل ویجیلینس کمیشن اور سی بی آئی جیسے اداروں کے بعد اب الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری اور دیانت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ شوریٰ نے میڈیا کے یکطرفہ اور جانبدارانہ رول پر بھی سوال اٹھایا۔آدھارکارڈ اور شہریوں کی پرائیویسی کے حق سے متعلق حکومت کے موقف کو قرار داد میں قابل مذمت سمجھا گیااور عدالت عظمٰی سے توقع کی گئی کہ وہ ان تباہ کن پالیسیوں سے حکومت کو روکے گی۔ مرکزی مجلس شوریٰ نے عالم اسلام کی موجودہ صورت حال پر بھی سخت تشویش کااظہار کیا۔ شوریٰ کا احساس ہے کہ ا س پورے خطہ کو بیرونی مداخلت سے آزاد کر ایا جائے۔ شوریٰ نے مسلم ممالک کو مشورہ دیا کہ وہ تنظیم اسلامی کانفرنس کو فعال اور موثر بنائیں تاکہ تعلیم، ثقافت ابلاغ، تجارت،معیشت ، ٹکنالوجی اور دفاع جیسے شعبوں میں عالم اسلام کے ممالک کے درمیان وسیع تعاون کی راہیں ہموار ہو سکیں۔ شوریٰ کے نزدیک عالم اسلام کی آزادی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان تمام سیاسی،فوجی و معاشی معاہدات اور معاملات سے آزادی حاصل کر لے جو اس کی آزادی کو مجروح کرتے ہیں۔ شوریٰ کو اس بات پر تشویش ہے کہ اس خطے میں اسرائیل اور امریکہ کے سیاسی ، فوجی اور ثقافتی اثرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ شوریٰ کے خیال میں جو کام فوری توجہ چاہتا ہے وہ بیرونی فوجی مداخلت کا خاتمہ ہے۔ شوریٰ نے یمن میں جاری خوں ریزی اور شام کی اندرونی صورت حال پر بھی فکر مندی کا اظہار کیا ہے اور امن کی بحالی کے اقدامات پر زور دیا ہے۔ اسی کے ساتھ شام میں پر امن اور آزادانہ انتخاب کے ذریعہ ذمہ دار حکومت کے قیام پر زور دیا ہے۔ شوریٰ نے مصر اور دیگر عرب ملکوں میں اخوان اور دیگر سیاسی قیدیوں و اسلام پسند عناصر کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ مرکزی مجلس شوریٰ نے امریکی صدر کے اس اعلان کی سخت الفاظ میں مذمت کی کہ بیت المقدس اسرائیل کا دارالحکومت ہوگا اور امریکی سفارت خانہ کو وہاں منتقل کیا جائے گا۔ شوریٰ کے نزدیک یہ اعلان حق و انصاف کے تمام معروف اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس اعلان نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن و صلح کے لیے ہونے والی کوششوں کو بے اثر کر دیا ہے۔ شوریٰ نے اس مسئلہ پر دنیا کے اکثر ممالک کے رویے اور اقدام کی ستائش کی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سیکوریٹی کونسل کی بھاری اکثریت نے صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا۔ اجلاس نے حکومت ہند کی تعریف کی کہ اس نے صدر ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف جنرل اسمبلی میں ووٹ دے کر اپنی دیرینہ روایات کی پاسداری کی۔ مرکزی شوریٰ نے عامۃ الناس سے اپیل کی کہ وہ فلسطین میں اسرائیل کے ظالمانہ قبضے، تعمیرات اور مظالم کے خلاف آواز بلند کریں۔ اس طرح شوریٰ نے ملت اسلامیہ اور ساری دنیاکے انصاف پسند عناصر سے اپیل کی وہ قبلہ اول کی بازیابی اور مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے تمام پر امن و آئینی ذرائع استعمال کریں۔