نئی دہلی 30دسمبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) لوک سبھا سے بل کے پاس ہونے کے بعد بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے نرمی کے اشارے بھی دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت اس بل میں تمام اپوزیشن جماعتوں کے اعتراضات پر غور کر سکتی ہے ؛ لیکن وہ چاہتی ہے کہ بل اسی سیشن میں پاس ہو۔ جمعرات کو کانگریس سمیت سب سے زیادہ اپوزیشن جماعتوں نے اس بل کی سپرٹ تو کیا تھا لیکن معاوضہ اور کریمنل ایکٹ جیسے نکاپ صفائی چاہتی ہے ۔ حکومت کے اندر بھی کچھ دلائل سامنے آئے ہیں کہ بل میں سزا والی شق پر بہتری کے اختیارات واضح ہیں ۔ بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر ایم جے. اکبر نے اس پہلو کا ذکر کیا تھا۔ اگرچہ لوک سبھا میں تمام ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے بل کو پاس کروا دیا گیا؛ لیکن راجیہ سبھا میں حکومت کے پاس خود اپنی اکثریت نہیں ہے ، یہاں اپوزیشن کے تعاون کی ضرورت ہوگی ۔ ایسے میں حکومت نے اختیارات کو کھلا رکھا ہے۔ مرکزی حکومت میں ایک وزیر نے جمعہ کو کہا تھا کہ اگر تجویز ترمیم کے طور پر آتی ہے تو جو حکومت کو بہتر لگے گا اس کو اختیار کیا جائے گا ۔ لیکن اگر راجیہ سبھا میں موجودہ بل کو ترمیم کے ساتھ پاس کیا گیا تو اسے پھر لوک سبھا میں پاس کرنا ہوگا۔ پارلیمنٹ کا موجودہ سیشن 5 جنوری تک ہے۔ ایسے میں اگر حکومت ترمیم پر متفق ہوتی ہے تو اسے راجیہ سبھا میں ترمیم کرکے 5 جنوری سے پہلے لوک سبھا میں بھی پاس کرانا ہوگا۔ اگرچہ حکومت بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کو تیار نہیں ہے۔ حکومت اور اپوزیشن میں اگر اتفاق نہیں ہو تا تو یہ آخری شکل ہوگی ۔ پھر بھی لوک سبھا میں کانگریس سمیت زیادہ تر اپوزیشن جماعتوں کا رخ دیکھنے کے بعد حکومت کو یقین ہے کہ اپوزیشن اسے سلیکٹ کمیٹی بھیجنے کی ضد نہیں کرے گا ۔ اس میں یہ بھی شق قابل غور ہے کہ کانگریس اس بل کو لے زیادہ جارحانہ تیور اختیار کرنے کی نیت نہیں رکھتی ہے ؛ کیونکہ وہ از خود اب نرم ہندوتوا کی راہ پر چل رہی ہے۔ کانگریس ایسا کوئی قدم اٹھانے کے ارادے میں نہیں ہے جس سے یہ پیغام جائے کہ وہ بل کو اٹکانا چاہتی ہے ۔لوک سبھا میں اس نے بل کی مخالفت نہیں کی تھی ؛ بلکہ اس کی تائید کی تھی ۔ ساتھ ہی خواتین مخالف کا الزام لگنے سے بھی بچنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس نے بل کی دفعات میں خامیوں کو اجاگر کرکے خاموشی اختیار کر لی ہے ۔ اس کے علاوہ سرکار کی نیت واضح طور پر شرعی قوانین میں براہ راست مداخلت کا ارادہ ہے جب کہ دفعہ ۲۵ کے تحت اقلیتوں کو اپنے مذہب و شرعی قوانین کے تحت جینے کا حق حاصل ہے ؛ لیکن برہمنی تہذیب کو مسلط کیے جانے کی نیت سے لوک سبھا میں تین طلاق بل پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے رامپور کی ایک خاتون گل افشاں کا ذکر کیا تھا۔تاہم سرکار کی نیت اب واضح طور پر شرعی قانون میں مداخلت کرکے یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کی ہے اور اس سمت میں بولہبی صفات متحد ہوچکے ہیں ، تاہم مسلم تنظیموں کااس ذیل میں رول کافی معنی خیز ہوگا ۔