نئی دہلی 30دسمبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور ممبر آف پارلیامنٹ اسد الدین اویسی نے جمعرات کو لوک سبھا میں تین طلاق بل کو لے کر ہوئی بحث کے تناظر میں کہا کہ لوک سبھا کا اندرونی ماحول 6/ دسمبر جیسا تھا ۔ آل انڈیا مجلس اے اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران لوک سبھا کا ماحول 6 دسمبر، 1992 کی طرح تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہ ہی 6 دسمبر کو بھول سکتے ہیں اور نہ ہی لوک سبھا میں گزشتہ جمعرات کے منظر کو بھول پائیں گے۔ جب ہر سمت طلاق ثلاثہ کے مخالف اور شرعی امور کے مخالفین برہمنی صفات کے ساتھ ترچھی نگاہ کیے ہوئے بیٹھے تھے ۔ سخت مخالفت کے بعد بھی لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ بل پاس ہونے کے سوال پر اویسی نے کہا کہ اگر کوئی مسلم شخص اپنی بیوی کو تین بار طلاق کہہ کر چھوڑ دیتا ہے، تو وہ جرم ہے اور اسے روکا جانا چاہئے ؛ لیکن اس بات کی حمایت کرنے کے لئے ا یسی کوئی حقیقت یا اعداد و شمار موجود نہیں ہے جس سے یہ کہا جا سکے کہ یہ ایک سماجی برائی ہے جو معاشرے کو نقصان پہنچاسکتی ہے ۔ حیدرآباد سے تین بار کے لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ اویسی نے تین طلاق بل میں تین سال کی قید کی سزا پر بھی سوال اٹھایا، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ صرف تین طلاق کہنے سے محض شادی ختم نہیں ہوگی تو اس کے لئے تین سال کی جیل کی کیا ضرورت ہے؟ ہمارے پاس خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے بہت سے قانون ہیں جس میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 498 اے، گھریلو تشدد ایکٹ 2005 اور مسلم خواتین (طلاق پر حقوق کی تحفظ) ایکٹ 1986 کے تحت دفعہ 20 اور 22 جیسی دفعات مشتمل ہے ۔ اویسی نے طلاق ثلاثہ بل میں سزا کے طور پر تین سال کی جیل دینے کی مخالفت کرتے ہوئے سوال کیا کہ تین طلاق کہنے پر جیل بھیجے جانے والے شخص کی بیوی کو بھتہ یا معاوضہ کس طرح ملے گا اور گذر اوقات کے لیے کس طرح قیدی شوہر بیوی کو نان و نفقہ کی ادائیگی کر ے گا ۔ اویسی نے کہا کہ انہوں نے تین طلاق بل کے دفعات میں ترمیم کا بھی مشورہ دیا تھا، جسے سرے سے خارج کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے مفاد کے لئے میری ترمیم کی تجاویز کو مسترد کردیا، جب کہ کانگریس یہ ثابت کرنا چا ہتی ہے کہ وہ بی جے پی کے مقابلے میں زیادہ ہندو حامی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آخر کیوں وہ طلاق ثلاثہ بل کے مخالف ہیں تو انہوں نے کہا کہ تعزیرات ہند کی دفعہ 498 اے اور گھریلو تشدد ایکٹ کے تحت کورٹ میں درج مقدمات میں 80 فیصد غیر مسلم خواتین شامل ہیں تاہم، انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسلم خواتین کو تعلیم اور ملازمت ملنی چاہئے۔ ساتھ ہی انہوں نے تعلیم نسواں کے لئے سات فیصد ریزرویشن کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو لگتا ہے کہ مسلم خواتین کو تعلیم دینا جانا چاہیے تو انہیں ریزرویشن دے دینا چاہیے ۔ انہوں نے تین طلاق بل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کی کیا گارنٹی ہے کہ اس بل کے قانون بننے کے بعد مسلم خواتین کو انصاف ملے گا۔ یہ پوچھنے پر کہ خواتین کے تحفظ اور بااختیار بنانے کے لئے اگر جہیز ایکٹ، گھریلو تشدد ایکٹ جیسے اور دیگر قانون منظور کئے گئے ہیں، تو مسلم پرسنل قانون کیوں نہیں تبدیل کیا جا سکتا ہے تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ اس لیے ؛کیونکہ دفعہ 25 کے تحت ہمارے پاس آئینی حقوق ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام پارٹیوں کی پول کھل گئی ہے۔ سیکولرازم پر ان کے خیالات بے نقاب ہوگئے ہیں۔ اسد الدین اویسی نے یہ بھی کہا اس سے بی جے پی کا مسلم مخالف نظریہ بھی واضح ہوگیا ۔