کاروار 10؍نومبر (ایس او نیوز) ریاستی حکومت کی طرف سے اعلان کردہ ٹیپو جینتی ضلع شمالی کینر ا کے مختلف مقامات پر منائی گئی۔ بعض مقامات پر بی جے پی لیڈران اور کارکنان نے اس کی مخالفت میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے اور گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں۔
سداپور سے ملنے والی خبروں کے مطابق ایم ایل اے وشویشور کاگیری کی قیادت میں بی جے پی کے رضاکاروں نے کالی پٹیاں باندھ کرٹیپو جینتی کی مخالفت میں مظاہرہ کیا ۔اور تعلقہ پنچایت کے احاطے میں منائی جارہی تقریب کا محاصرہ کرنے کی کوشش کی۔احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کاگیری نے کہا کہ ٹیپو ایک حملہ آور تھا اور اس نے یہاں کے باشندوں پر اور ان کے جذبات پر حملے کیے تھے۔ وہ ایک ملک دشمن،ریاست دشمن اور کنڑا مخالف حکمراں تھا۔ایسے شخص کی جینتی منانا ریاست کے وقار منافی ہے اور کلنک لگانے والی بات ہے۔اس موقع پر پولیس نے کاگیری سمیت دیگر بی جے پی لیڈران کو گرفتار کیا۔
بتایا جاتا ہے کہ سرسی میں بھی بی جے پی نے احتجاجی مظاہرہ کیا اوروشویشوریا ہال میں چل رہے پروگرام کو روکنے کی کوشش کی گئی۔اس موقع پر دو گروہوں کے درمیان تکرار کی نوبت آگئی۔ وہاں بھی پولیس نے بی جے پی کے رضاکاروں کو گرفتار کیا۔
یلاپور سے ملنے والی اطلاع کے مطابق یہاں ٹیپو جینتی پورے اہتمام کے ساتھ منائی گئی۔ ایم ایل اے شیورام ہیبار نے تقریب کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ٹیپو جیسی عظیم شخصیت کی جینتی منانے کا مقصدان کے اصولوں سے نئی نسل کو متعارف کروانا ہے۔ٹیپو جینتی کی تقریب تعلقہ پنچایت کے ہال 'گاندھی کوٹیر' میں منائی گئی۔جناب قیصر سیدنے اپنے خطاب میں ٹیپو کی زندگی اور ان کے کارناموں پر روشنی ڈالی۔جلسے کی صدارت تعلقہ پنچایت صدر بھویا شیٹی نے کی۔
دوسری طرف یلاپور کے امبیڈکر سرکل پر کالے جھنڈوں کے ساتھ نعرے بازی کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا مگر پولیس نے احتجاجیوں کو حراست میں لے لیا جس سے ٹیپو جینتی کی تقریب پر کوئی اثرنہیں پڑا۔پولیس نے جن لوگوں کو گرفتار کیا ان میں ہندو تنظیم کے لیڈر سومیشور نائک، امیت نائک منچے کیری وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس کی جانب سے بعض لوگوں کو احتیاطی طور پر حراست میں لینے کی بھی بات معلوم ہوئی ہے۔
جہاں تک ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر کاروار کا تعلق ہے ، یہاں پر ضلع انتظامیہ کی طرف سے ٹیپو جینتی منائی تو گئی مگر اس تقریب سے کانگریسی لیڈران ہی غائب نظر آئے۔ خودضلع انچارج وزیر آر وی دیشپانڈے اور کانگریس کے حمایتی ایم ایل اے ستیش سائیل کی غیر حاضری پر لوگوں کو حیرت کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا گیا۔چونکہ نوٹ بندی کے سلسلے میں منائے گئے یوم سیاہ کے پروگرام سے بھی ستیش سائیل غیر حاضر رہے تھے ، اس سے لوگوں میں چہ میگوئیاں بڑھ گئی ہیں کہ آنے والے الیکشن کے پس منظر میں ستیش سائیل کانگریس کا ہاتھ چھوڑ کر بی جے پی کا ساتھ نبھانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
ضلع انچارج وزیر کی غیر موجودگی میں کاروار کے مالادیوی میدان میں واقع ہال میں تقریب کا افتتاح خود ڈپٹی کمشنر کو کرنا پڑا۔ سب سے تعجب خیز بات یہ تھی کہ پروگرام میں سرکاری افسران اور اسکولی بچوں کے علاوہ عوام کہیں نظر نہیں آرہے تھے۔
کاروار کے سویتا سرکل پر وی ایچ پی اور بی جے پی کے رضاکاروں نے ٹیپو جینتی کی مخالفت میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔اور جب احتجاجیوں نے وزیر اعلیٰ سدارامیا کا پتلا جلانے کی کوشش کی تو پولیس نے آگے بڑھ کر20 احتجاجی مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔