ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ضلع شمالی کینرا میں کانگریس اراکین اسمبلی دیہی علاقوں کی سیاست میں جُٹ گئے

ضلع شمالی کینرا میں کانگریس اراکین اسمبلی دیہی علاقوں کی سیاست میں جُٹ گئے

Thu, 06 Oct 2016 02:05:07    S.O. News Service

بھٹکل 5/اکتوبر(ایس او نیوز) آج کل ضلع شمالی کینرا کے اراکین اسمبلی اپنے اپنے حلقے کے گاؤں اور قصبوں میں جاکرگرام پنچایت سطح پر وہاں کے عوام کے مسائل  سننے اور راحت دلانے کی مہم میں جٹ گئے ہیں تاکہ ان کی سیاسی پوزیشن مستحکم ہوجائے۔اس سے لگتا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں دیہی علاقوں کے ووٹرس جو بڑا کردار ادا کرنے والے ہیں اس کا احساس کانگریس پارٹی اور اس کے لیڈروں کو ہوگیا ہے۔

بھٹکل رکن اسمبلی منکال وئیدیااور کمٹہ کی شاردا شیٹی نے گرام پنچایت سطح پر اپنی سیاسی ہلچل ابھی تیز کردی ہے تو اس سے پہلے کاروار کے ستیش سائیل نے اپنے اسمبلی حلقے میں تمام دیہاتوں کا ایک دورہ مکمل کرلیا ہے۔دوسری طرف ضلع انچارج وزیردیشپانڈے نے زیادہ سے زیادہ عوامی منصوبوں اور فنڈکو اپنے علاقے ہلیال کی طرف موڑ کر وہاں اپنا قلعہ مضبوط کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ادھر یلاپور کے ایم ایل اے شیو رام ہیبارنے بھی منڈگوڈ اور یلاپور کے دیہی علاقوں میں اپنی ہلچل تیز کردی ہے۔

کانگریسی اراکین اسمبلی کی ان سرگرمیوں پر نظر دوڑائیں توصاف دکھائی دے رہا ہے کہ بھٹکل، کمٹہ، کاروار اور یلاپور کے اراکین کوآئندہ الیکشن میں دوبارہ ٹکٹ پانے کی امید تو پہلے سے ہی تھی، مگر اب وہ لوگ اپنی جیت کو یقینی بنانے کے مشن پر لگ گئے ہیں۔جہاں تک ہلیال کا تعلق ہے وہاں ایک بار شکست سے دوچار ہونے والے آر وی دیشپانڈے کے بیٹے کو دوبارہ کوشش میں جیت سے ہمکنار کرنے کے لئے دیشپانڈے پورا زور لگارہے ہیں اور زیادہ سے زیادہ ترقیاتی پروگرام اور فنڈ ہلیال کی طرف موڑنے کا یہی سبب بتایاجاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہلیال کے دیہی علاقوں میں ہر ہفتہ کسی نہ کسی سرکاری پروگرام کی خبریں عام ہوتی جارہی ہیں۔

سیاسی جانکاروں کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے الیکشن قریب آتے ہیں برسراقتدار پارٹی کے خلاف ماحول بنایا جاتا ہے۔ اس پر روک لگانے اور حکومت کو عوام دوست باور کرانے کے ساتھ اپنی ہی پارٹی سے ٹکٹ کے لئے کوشش کرنے والے دیگر لوگوں کا راستہ روکنا موجودہ اراکین اسمبلی کے لئے ضروری ہوگیا ہے۔ اسی بات کو ذہن میں رکھ کر ساری دوڑ دھوپ کی جارہی ہے۔اب جبکہ آئندہ اسمبلی الیکشن کو تقریباً20مہینے باقی ہیں تو دیکھنا یہ ہے کہ گزشتہ دو ڈھائی برسوں میں جن اراکین اسمبلی نے اپنے حلقے کے مسائل اور ترقی پر پوری طرح دھیان نہیں دیا تھاان کی طرف سے آئندہ بیس مہینوں میں کی جانے والی تازہ دوڑ دھوپ کچھ کام آئے گی اور ان کی دوبارہ جیت یقینی بنائے گی یا پھر عوام کسی نئے چہرے کو سامنے لانے کافیصلہ کریں گے۔ اس کے لئے ابھی الیکشن کا انتظار کرنا پڑے گا۔
 


Share: