بنگلورو 16؍دسمبر (ایس او نیوز) ریاستی خفیہ ایجنسی نے حکومت کو جو رپورٹ دی ہے اس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ پریش میستا کی ہلاکت کا معاملہ حکومت کی طرف سے سی بی آئی کے حوالے کیے جانے کے باوجود حزب اختلاف بی جے پی اس کو اپنے سیاسی فائدے کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے اور اس حساس مسئلے کو زندہ رکھناچاہتی ہے۔
پریش میستا کا قتل ہواتھا یا یہ ایک غیر فطری موت تھی، اس بات کا فیصلہ پوسٹ مارٹم کی فائنل رپورٹ آنے کے بعد ہی ہوگا۔لیکن پتہ چلا ہے کہ اس سے پہلے ہی ہوناور پولیس نے اسے ایک قتل کا معاملہ قرار دیتے ہوئے ایف آئی آر درج کی ہے۔8دسمبر کو پریش کے والد کملاکر میستا کی شکایت کی بنیاد پرپولیس نے جرم نمبر 592/2017 آئی پی سی دفعات 302,143,148,201کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
معتبر ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق خفیہ ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں مزید ہنگامہ آرائی کے لئے بی جے پی کے ریاستی اعلیٰ لیڈران جگدیش شیٹراور کے ایس ایشورپا نے 18دسمبر کوزبردست مذمتی احتجاجی مظاہرہ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس کے ساتھ ہی اس بات کے بھی اشارے دئے جارہے ہیں کہ 20دسمبر سے بی جے پی اپنے احتجاجی مظاہروں میں مزید تیزی لائے گی۔حالانکہ ضلع میں امن و شانتی کی حالت سدھر رہی ہے مگر پریش میستا کو بڑی بے رحمی سے قتل کیے جانے کی افواہوں نے جو اثر عوام کے ذہنوں پر ڈالا ہے وہ ابھی تک کم نہیں ہوا ہے۔اس لئے حکومت جس طرح اس معاملے کو ایک عام موت قرار دے رہی ہے ، اس نظریے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک منصوبہ بند قتل قرار دینے کا سلسلہ آگے بڑھایا جارہاہے۔
پریش کی موت کو مسئلہ بناکر بی جے پی نے احتجاجی مظاہرے شروع کررکھے ہیں۔مگرلاش کے پوسٹ مارٹم سے متعلق جو فورنسک رپورٹ آئی ہے ، اس میں قتل کی علامات نہ پائے جانے کی بات کہی گئی ہے۔ اس پر بی جے پی نے حکومت کو ہی مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ فورنسک رپورٹ کو اپنی مرضی کے مطابق ہیر پھیر کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔جس کی وجہ سے احتجاجی مظاہروں میں شدت آنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔جبکہ لاش کے اعضاء کے جونمونے لیباریٹری جانچ کے لئے بھیجے گئے ہیں اس کی رپورٹ چند ہی دنوں میں موصول ہونے کی امید جتائی جارہی ہے جس کے بعد پوسٹ مارٹم کی فائنل رپورٹ جاری کی جائے گی۔
اب جو خفیہ ایجنسی کی رپورٹ میں بی جے پی کی طرف سے بدامنی پھیلانے کی تیاریوں کا اشارہ کیا گیا ہے ، ہوسکتا ہے کہ بی جے پی اسے بھی مخالفت کا موضوع بنائے اور سرکارکے خلاف عوامی جذبات بھڑکانے کاکام لے۔
دوسری طرف امن قائم رکھنے کی ذمہ داری اٹھانے والی پولیس فورس کی حالت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ یکم دسمبر کوضلع شمالی کینر ا میں وزیر اعلیٰ کے دورے کے پیش نظر حفاظتی بندوبست کے لئے بلائی گئی پولیس فورس اب تک اپنے گھروں کی طرف لوٹ نہیں پائی ہے۔دیگر اضلاع سے بلائے گئے پولیس عملے کو یہاں وہاں قیام کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ ایک قیام گاہ پر صرف ایک بیت الخلا ء ہے اور وہاں 200کے قریب پولیس والے مقیم ہیں۔ نہانے دھونے اور پانی کے مسائل الگ ہیں۔ ان سب سے بڑھ کر دن اور رات کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے ، بس چوکس رہنا ہے اور کسی بھی گھڑی حکم ملتے ہی امن کی بحالی کے لئے دوڑ پڑنے کو تیار رہنا ہے۔ اس طرح جسمانی اور ذہنی طور پر بھی پولیس والے مسلسل اذیت سہنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔