نئی دہلی،14/مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)یوگی آدتیہ ناتھ اور منوہر پاریکر نے وزیر اعلی بننے کے لیے قومی سیاست چھوڑ دی، لیکن وہ شاید اپنی پارلیمانی سیٹ سے استعفی صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے بعد ہی دیں گے۔صدارتی انتخابات کے لیے ایک ایک ووٹ اہم ہے،جہاں اپوزیشن پارٹی ایک مشترکہ امیدوار طے کرنے کے لیے پوری کوشش کر رہی ہے، وہیں بی جے پی کے ذرائع کے مطابق،پارٹی چاہتی ہے کہ دونوں ممبران پارلیمنٹ صدارتی انتخابات میں ووٹ دینے کے بعد ہی لوک سبھا سے اپنا استعفی دیں۔اتر پردیش کے نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ بھی صدارتی انتخابات کے بعد لوک سبھا کی رکنیت سے استعفی دیں گے۔اتر پردیش اور گوا کے وزرائے اعلی کے ساتھ موریہ کو بھی حلف لینے کے 6 ماہ کے اندر اپنی ریاست کی ا سمبلی منتخب ہوکر آنا ہوگا۔ان کے پاس اس لحاظ سے ابھی کافی وقت ہے،جہاں صدارتی انتخابات جولائی میں ہونے والے ہیں۔وہ لوک سبھا کی رکنیت سے استعفی دینے کے بعد ہی ریاستی اسمبلی کے لیے الیکشن لڑ سکتے ہیں۔پاریکر نے 14/مارچ کو گوا کے وزیر اعلی کے عہدہ کا حلف لیا تھا، وہیں آدتیہ ناتھ اور موریہ نے 19/مارچ کو اترپردیش کے وزیر اعلی اور نائب وزیر اعلی کے طور پر کمان سنبھالی تھی۔صدارتی انتخابات جولائی میں ہونے والے ہیں جبکہ نائب صدر کا الیکشن اگست میں ہو گا۔نائب صدر کے الیکشن کے لیے الیکٹورل کالج واضح طور پر بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کے حق میں ہے، جہاں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے کل 787ارکان میں سے 418رکن اتحاد کے ہیں۔جگن موہن ریڈی کی وائی ایس آرسی پی کے حکمران اتحاد کو اپنی پارٹی کی حمایت دینے کے اعلان کے بعد این ڈی اے اتحاد صدارتی انتخابات کے لیے بھی الیکٹورل کالج میں اکثریت کے ہندسہ سے آگے نکل گیا ہے۔تلنگانہ میں حکمران ٹی آر ایس نے بھی اشارہ دیا تھا کہ وہ این ڈی اے کی حمایت کرے گی۔بی جے پی کو تمل ناڈو کی انادرمک کے دونوں گروپوں کی حمایت ملنے کی بھی امید ہے، حالانکہ بی جے پی کو اپنی ساتھی شیوسینا کو لے کر غور کرنا پڑ سکتا ہے، جس نے گزشتہ دو صدارتی انتخابات میں بی جے پی کا ساتھ نہیں دیاتھا۔