ممبئی، 5 ؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )شیوسینا نے فوج کی وفاداری پر سوال اٹھانے کے لئے کانگریس لیڈر سنجے نروپم پر ملک سے بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارٹی کے ممبئی چیف عہدے سے انہیں فوری طور پر ہٹائے جانے کا آج مطالبہ کیا۔نروپم نے کنٹرول لائن کے اس پار دہشت گرد ٹھکانوں پرفوج کے سرجیکل اسٹرائیک کی حقیقت پر سوال اٹھاتے ہوئے کل اسے فرضی بتایا تھا۔انہوں نے سرجیکل اسٹرائیک کو لے کر ثبوت کا مطالبہ کرتے ہوئے مرکز میں قابض بی جے پی پر اس معاملے پر سیاست کرنے کا الزام لگایا تھا۔کانگریس لیڈر نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ہر ہندوستانی پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک چاہتا ہے لیکن صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے مقصد سے بی جے پی کی طرح فرضی والا نہیں،قومی مفاد پر سیاست والا۔
شیوسینا کے ترجمان منیشا کایاندے نے کہا کہ نروپم کو فوج پر آنکھ موبند کرکے یقین کرنے کاسبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔یہ حیرت انگیز ہے کہ انہوں نے ایسے وقت میں فوجی آپریشن کی حقیقت پر سوال اٹھایا جب ان کی پارٹی کے ہی صدر اور نائب صدر نے اس معاملے پر بالکل واضح رخ اختیار کیا۔انہوں نے دعوی کیا کہ فوج کی کارروائی سے پہلے وزیر اعظم نے تمام اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیا تھا اور کنٹرول لائن کی اصل صورت حال سے انہیں آگاہ کیا تھا۔منیشا نے کہا کہ ہم لوگ نروپم پر غداری کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ وہ دشمن قوم کے طرز پر چل رہے ہیں، جس نے کہا کہ سرجیکل اسٹرائیک کبھی ہوا ہی نہیں۔انہوں نے عالمی رہنماؤں کے سامنے ملک کی تصویر کو نقصان پہنچایا ہے۔شیو سینا لیڈر نے کہاکہ کے ساتھ ہی ہم لوگ ان کو عہدے سے ہٹائے جانے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں کیونکہ جو شخص فوج کی عزت نہیں کر سکتا وہ کبھی لوگوں کا احترام بھی نہیں کر سکتا اور نہ ہی ان کی خدمت کر سکتا ہے۔