بنگلورو،10؍جون(ایس او نیوز) مختلف اہم مقدمات میں صحیح سراغ لگانے اور ثبوت یکجا کرنے میں پولیس کی ناکامی اور بعض اوقات لاپرواہی پر ریاستی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس ایس کے مکھرجی نے عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ بعض اوقات پولیس کی انہی لاپرواہیوں سے عدلیہ بدنام ہوتاہے۔آج ریاستی محکمۂ پولیس کے زیر اہتمام فوجداری عدلیہ نظام کو موثر بنانے اور مضبوط کرنے کی ضرورت پر سمینار کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جرائم کے معاملات میں اصلی مجرم کو سزا دلانے میں پولیس کا رول انتہائی اہمیت کاحامل ہوتا ہے۔ پولیس اگر ہر معاملے کی صحیح زاویہ سے جانچ کرے اور ثبوت یکجا کرے تو ملزمین کو سزا دینے میں آسانی ہوتی ہے۔ بعض اوقات پولیس کی ناکامی کی وجہ سے اصل مجرم آسانی سے بچ نکلتے ہیں، جبکہ بے قصور پھنس جاتا ہے۔ انہوں نے بھوپال گیس سانحہ کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اس معاملے میں پولیس نے صحیح طریقہ کو نہیں اپنایا ، جس کی وجہ سے قتل کے معاملے کی بجائے ملزمین کے خلاف لاپرواہی کا معاملہ درج ہوگیا اور ملزم آسانی سے بچ نکلا۔ انہوں نے کہاکہ ہزاروں لوگوں کی موت کا سبب بننے والے ملزم کو صرف تین ماہ کی سزا دے کر چھوڑ دیا گیا۔ اس مرحلے میں یہ الزام لگایا گیا کہ عدلیہ فروخت ہوچکا ہے۔ پولیس اگر صحیح کارروائی کرتی تو ملزمین کو بھی صحیح سزا ملتی ۔اس موقع پر ڈائرکٹر جنرل آف پولیس روپ کمار دتہ نے کہا کہ 2015 سے اب تک ملک میں 31 لاکھ کرمینل کیس نمٹانے باقی ہیں۔ گزشتہ سال ان میں سے چار لاکھ مقدمات کو نمٹایا گیا۔اگلے دو تین سال میں ان مقدمات کو تیزی سے نمٹایا جائے گا۔