ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شموگہ کالج میں برقعہ تنازعہ؛ وہاٹس ایپ مسیج سے کشیدگی میں اضافہ ، مسیج بھیجنے والوں پرپولیس کی طرف سے کیس داخل

شموگہ کالج میں برقعہ تنازعہ؛ وہاٹس ایپ مسیج سے کشیدگی میں اضافہ ، مسیج بھیجنے والوں پرپولیس کی طرف سے کیس داخل

Mon, 06 Feb 2017 23:41:17    S.O. News Service

شموگہ 6/فروری (ایس او نیوز)سہیادری کالج شیموگہ میں ابھرنے والا یونیفارم اورمسلم لڑکیوں کے برقعہ اوڑھنے پر پابندی کا تنازعہ اب فرقہ وارانہ کشیدگی کا رخ اختیار کرتا جارہا ہے۔اس لئے جلتی پر تیل کاکام کرنے والے وہاٹس ایپ پیغامات کے خلاف پولیس نے اقدام کرنے کے لئے اپنے طور پر ہی نفرت پھیلانے والے مسیج پوسٹ کرنے والوں پر کیس داخل کردیا ہے۔

 خیال رہے کہ ہندتووادی تنظیم کے اراکین کی طرف سے مسلم لڑکیوں کے کالج میں برقعہ اوڑھنے کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے۔ یہاں تک کے مبینہ طور پر کلاس روم میں گھس کر برقعہ نہ پہننے کی تاکید کرنے اورپہن کر آنے والی لڑکیوں کے برقعے خود چھین کر اتارلینے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ بتایا گیا ہے  کہ اسی دوران شیموگہ سے تعلق رکھنے والے دونوجوان رحمن اور عمران نے دبئی سے وہاٹس ایپ پر غیر مسلموں کے خلاف گندے اور دھمکی آمیزاویڈیو مسیج پوسٹ کیا تھا۔ جس کے جواب میں شیموگہ سے ایک ہندو نوجوان پریتم نے مسلمانوں کے خلاف انتہائی فحش اور گندی گالیوں اور دھمکیوں والاویڈیو مسیج وہاٹس ایپ پر ہی پوسٹ کردیا۔

 پولیس کے اعلیٰ افسر کے مطابق اس طرح سوشیل میڈیا پر فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکانے والے پیغامات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے دونوں مسیج پوسٹ کرنے والوں کے خلاف پولیس نے اپنے طورپرsuo motoکیس داخل کرلیا ہے۔ ملک سے باہر دبئی میں رہنے والے مذکورہ نوجوانوں کے خلاف look out نوٹس بھی جاری کردی گئی ہے، جبکہ جوابی اشتعال اور نفرت انگیز مسیج پوسٹ کرنے والا مقامی نوجوان گرفتاری سے بچنے کے لئے روپوش ہوگیا ہے، اور پولیس اس کی تلاش میں لگ گئی ہے۔

 اس سلسلے میں شیموگہ ضلع ایس پی ابھینؤ کھرے نے وارننگ دی ہے کہ اس تنازعہ کے بارے میں سوشیل میڈیا پر نفرت اور اشتعال پھیلانے اور امن و امان بگاڑنے والے مسیج پوسٹ کرنے والوں کے خلاف پولیس سخت کارروائی کرے گی۔اور جس وہاٹس ایپ گروپ پر ایسے مسیج پوسٹ ہوں گے اس گروپ کے ایڈمین کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔


Share: