نئی دہلی، 7 ؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )سرجیکل اسٹرائیک پر اپنے ’دلالی‘والے تبصرہ پر تنقید کا سامنا کر رہے کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے آج کہا کہ وہ واضح طور پر فوجی کارروائی کی حمایت کرتے ہیں لیکن بی جے پی کے انتخابی پوسٹروں اور تشہیری مہم میں فوج کے استعمال کے خلاف ہیں۔راہل نے اپنے سلسلہ وار ٹوئٹ میں کہاکہ میں سرجیکل حملوں کی مکمل طور پر حمایت کرتا ہوں اور میں نے یہ بات واضح طور پر کہی ہے، لیکن میں ملک بھر میں سیاسی پوسٹروں اور پروپیگنڈوں میں ہندوستانی فوج کے استعمال کی حمایت نہیں کروں گا۔کانگریس نائب صدر نے کل وزیر اعظم پر حملہ کیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ وہ فوجیوں کے خون کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ مودی فوجیوں کی شہادت کا سیاسی فائدہ لے رہے ہیں۔راہل نے کہا تھاکہ جنہوں نے ہندوستان کے لیے سرجیکل آپریشن کئے ہیں، ان کے خون کے پیچھے آپ چھپے ہیں۔ان کی آپ دلالی کر رہے ہیں ، یہ بالکل غلط ہے۔بی جے پی نے کانگریس نائب صدر کے ’دلالی‘لفظ پر سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا اور اسے ہندوستانی سیاست میں ایک نئے گرواٹ بتایا۔دہلی کے وزیر اعلی اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے بھی کانگریس نائب صدر کی اس تبصرہ پر تنقید کی۔اس درمیان، کانگریس جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ نے مودی اور دیگر بی جے پی لیڈروں پر حملہ کیاہے اور الزام لگایا کہ وہ کنٹرول لائن سے متصل علاقوں میں دہشت گردوں کے لانچنگ پیڈ پرسرجیکل حملے کو اس طرح پیش کر رہے ہیں جیسے فوجیوں کے بدلے انہوں نے خود ہی یہ آپریشن کیا ہو ۔سنگھ نے ٹوئٹ کیاکہ مودی، امت شاہ، پاریکر اور بی جے پی لیڈر اس طرح گھومتے پھر رہے ہیں جیسے انہوں نے ہی سرجیکل اسٹرائیک کیا ہے۔ہماری فوج اور بہادروں کو کریڈٹ دیں۔