نئی دہلی،15؍نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ اب پھر سے یہ غور کرے گا کہ کیا سرکاری نوکری میں ایس سی، ایس ٹی کو ریزرویشن دیا جا سکتا ہے یا نہیں، گرچہ اس سلسلے میں ان کے ناکافی نمائندگی کو لے کر ڈیٹا نہ ہو۔نوکری میں پروموشن میں ریزرویشن کو لے کر مختلف ہائی کورٹ کی طرف سے سرکاری حکم کو منسوخ کرنے کے حکم کے بعد اب سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کرے گی۔کئی ریاستی حکومتوں نے ہائی کورٹ کے پروموشن میں ریزرویشن منسوخ کرنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ان کی دلیل ہے کہ جب صدر نے نوٹیفکیشن کے ذریعے ایس سی ،ایس ٹی کی پسماندہ لوگوں کا تعین کیا ہے، تو اس کے بعد پسماندگی کو آگے مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ریاستوں اور ایس سی ،ایس ٹی ایسوسی ایشن نے دلیل دی کہ کریمی لیئر کو باہر رکھنے کا اصول ایس سی ،ایس ٹی پر نافذنہیں ہوتا اور سرکاری نوکری میں پروموشن دیا جانا چاہئے کیونکہ یہ آئینی ضرورت ہے۔وہیں ہائی کورٹ کے احکامات کی حمایت کرنے والوں کی دلیل تھی کہ سپریم کورٹ ایم ناگراج کے فیصلے کے مطابق اس کے لئے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ سروس میں ایس سی ،ایس ٹی کی کافی نمائندگی نہیں ہے اور اس کے لئے ڈیٹا دینا ہوگا۔اب پانچ ججوں کی بنچ پہلے یہ طے کرے گی کہ ایم ناگراج کے فیصلے پر نظر ثانی کی ضرورت ہے بھی کہ نہیں۔