نئی دہلی، 18 جنوری (ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ نے فلم ’’پدماوت‘‘ پر جاری تنازعہ پر ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے بی جے پی حکومت والی چار ریاستوں میں فلم پر لگی پابندیوں کو مسترد کردیا ہے اور ملک کی تمام ریاستوں کو ہدایت جاری ہے کی کہ وہ بغیر کسی روک ٹوک فلم کی نمائش کی اجازت دے، ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے متعلقہ ریاستوں کو فلم پدماوت کی نمائش کے دوران کسی امکانی گڑبڑ پر قابو پانے کے لئے لاء اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے کی بھی ہدایت جاری کی ہے.
سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے بی جے پی کو زبردست دھچکا لگا ہے، اس کے لیڈران ویسے تو خاموش ہیں، لیکن کرنی سینا سپریم کورٹ کی حکم عدولی پر آمادہ نظر آرہی ہے، جن کے کارکنوں نے ملک کے مختلف حصوں میں تھیٹروں میں توڑپھوڑ کرتے ہوئے ناراضگی ظاہر کی ہے اور عدالت کے فیصلے کی بھی توہین کی ہے۔ بہار کے پٹنہ اور مظفرپور سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ وہاں کرنی سینا کے کارکنوں نے تھیٹروں میں ہنگامہ برپا کرتے ہوئے مالکان کو وارننگ دی ہے کہ فلم ریلیز کرنے کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیں ورنہ کوئی بھی فلم ریلیز نہیں ہونے دی جائے گی۔
خیال رہے کہ 13 ویں صدی میں دہلی کے سلطان علائو الدین خلجی اورمیواڑ کے مہاراجہ رتن سنگھ کے درمیان ہوئی جنگ پر مبنی فلم پدماوت پر راجستھان، گجرات، مدھیہ پردیش اور ہریانہ حکومت نے پابندی لگادی تھی، جس کے خلاف فلم سازوں نے عدالت عظمی کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ سپریم کورٹ نے راجستھان اور گجرات میں فلم کی نمائش پر روک لگانے والے نوٹی فیکیشن اور احکامات پر آج پابندی لگادی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے دیگرریاستوں میں بھی فلم کی نمائش پر روک لگانے والے احکامات یا نوٹی فیکیشن جاری کرنے سے بھی روک لگادیا ہے۔
چیف جسٹس دیپک مشرا، اے ایم کھانویلکر اور ڈی ائی چندر چوڑ پر مشتمل بنچ نے تمام ریاستوں کو لاء اینڈ آرڈر کی برقراری پر سختی کے ساتھ سے ہدایت دی ہے اور کہا ہے کہ نظم ونسق برقرار رکھنا ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔ بنچ نے کہاکہ بنچ نے واضح کیاکہ یہ عبوری حکمنامہ ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے اس موقع پر سخت ریمارک کرتے ہوئے کہاکہ اس قسم کے مسائل اُس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس طرح کی فلموں کی نمائش پر روک لگادی جاتی ہے۔ دستوری اعتبار سے اس پابندی نے مجھے تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
واضح رہے کہ سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے اور مکل روہتگی نے وی کام 18 اور فلم کے دیگر پروڈیوسرس کی جانب سے عدالت میں پیش ہوتے ہوئے بتایا کہ ملک کی ریاستیں ایک ایسے وقت جب مرکزی فلم سنسر بورڈ (سی بی ایف سی) نے اِس فلم کی نمائش کے لئے سرٹیفکٹ جاری کردیا ہے، تو ملک کی ریاستیں اس پر پابندی عائد کرنے کے لئے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ بنچ نے آئندہ کی سماعت مارچ میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
فلم پروڈیوسرس چار ریاستوں گجرات، راجستھان، ہریانہ اور مدھیہ پردیش کی جانب سے فلم کی نمائش کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے تھے۔ حکومت ہریانہ، گجرات، مدھیہ پردیش اور راجستھان نے قبل ازیں یہ واضح کردیا تھا کہ اُن کی حکومت فلم پدماوت کی نمائش کی اجازت نہیں دے گی جس میں شاہد کپور، دپیکا پڈکون اور رنویر سنگھ نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ دوسری طرف اڈیشنل سالیسٹر جنرل تشار مہتا جو راجستھان، گجرات اور ہریانہ کی نمائندگی کررہے تھے، عدالت عظمیٰ کو مطلع کیاکہ مذکورہ نوٹیفکیشن صرف گجرات اور راجستھان کی حکومت نے جاری کیا ہے۔ مہتا نے عدالت پر زور دیا کہ اِس مسئلہ پر کل یا پھر 22 جنوری تک سماعت مکمل کرلی جائے تاکہ متعلقہ ریاستیں عدالتی احکام کے مطابق لائحہ عمل مرتب کرسکیں۔ انھوں نے کہاکہ اس طرح کی انٹلی جنس اطلاعات ہیں کہ فلم کی نمائش کے ردعمل میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے اور جس وقت مرکزی سنسر بورڈ نے اِس فلم کو نمائش کی اجازت دی تھی ممکن ہے کہ اُن کے ذہن میں یہ پہلو نہ آیا ہو۔ اُنھوں نے کہاکہ ہمارے ملک میں اظہار رائے کی آزادی کا غلط استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔