کاروار، 2/ جون (ایس او نیوز) آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے او بی سی سیل کے سیکریٹری ناگراج نارویکر نے کاروار پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ہوئے کہا کہ سرسی میں کامدھینو جیویلرس کے مالک کے بیٹے پریتم نے کچھ دن پہلے جو خود کشی کی تھی اس کا سبب بننے والے نقلی صحافیوں کو گرفتار کرنے میں سرسی پولیس ناکام ہوگئی ہے ۔
ناگراج نارویکر نے کہا صحافت سے وابستہ افراد کا اپنا وقار اور مرتبہ ہوتا ہے مگر بعض نقلی صحافیوں کی وجہ سے اس شعبے کی بدنامی ہوتی ہے ۔ اس پر روک لگانے کے لئے سرسی پولیس کو ان تین نقلی صحافیوں کو گرفتار کرنا چاہیے جنہوں نے جیویلری شاپ کے مالک کو بار بار بیلک میل کرتے ہوئے خود کشی پر مجبور کیا ۔ نارویکر نے بتایا کہ خود پریتم نے مجھے فون کرکے یہ بات بتائی تھی تین صحافی اسے بلیک میل کر رہے ہیں ۔ چار لاکھ روپے انہیں اد کیے جا چکے ہیں پھر مزید 25 لاکھ روپوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ میں نے پریتم سے کہا تھا کہ اسے ضلع پولیس سپرنٹنڈٰنٹ کے پاس شکایت درج کروانی چاہیے ۔
ناگراج نے جو الزامات لگائے ہیں اس کے مطابق اس کے ساتھ گفتگو کے 16 دن بعد پریتم نے خود کشی کر لی ۔ سرسی کے نیو مارکیٹ پولیس اسٹیشن میں جب پریتم کے والد اور بھائی نے شکایت درج کروانے کی کوشش کی تو پی ایس آئی رتنا کوری نے پریتم کی بیوی سے شکایت درج کروانے پر اصرار کیا ۔ پھر دو دن بعد جب پولیس پر دباو پڑا تو کیس درج کر لیا گیا مگر پولیس اس معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے ۔
ناگراج کے مطابق پولیس سب انسپکٹر رتنا کوری نے خود ہی ایک بیان لکھ کر پریتم کی بیوی اور ساس کو دستخط کرنے کے لئے جس میں خود کشی کا سبب بلیک میلنگ نہ ہونے کی بات کہی گئی ہے مگر گھر والوں نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کیا ۔
ناگراج نارویکر نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے سے گہرائی سے جانچ ہونی چاہیے ۔ بلیک میلنگ کرنے والے اوم ہیگڑے، رویش ہیگڑے اور گنیش اچاری کو جلد سے جلد گرفتار کرنا چاہیے ۔ پولیس سب انسپکٹر رتنا کوری اور خود کشی کا سبب بننے والے بیلک میلر صحافیوں کے درمیان کیا گٹھ جوڑ ہے اس کی تحقیقات ہونی چاہیے ۔ ناگراج نے کہا کہ ہم نے اس تعلق سے اعلیٰ پولیس افسران سے شکایت کی ہے مگر پی ایس آئی رتنا کے خلاف کوئی کارروائی تا حال نہیں ہوئی ہے ۔ اسے صرف تحقیقاتی افسر کی ذمہ داری سے ہٹایا گیا ہے ۔ اگر پولیس ان ملزمین کو گرفتار نہیں کرتی تو پھر آئندہ سرسی بند کا اعلان کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرا کیا جائے گا ۔