اپنی پارٹی کے بتائے تین منتر، سچائی، محنت اور ترقی،بی جے پی لیڈرکاپارٹی میں شامل ہونے کااعلان
چنئی،31؍دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)تامل سپر اسٹار رجنی کانت نے 2017کے آخری دن ایک بڑا اعلان کرکے دھماکہ کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ سیاست میں داخل ہو رہے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی نئی پارٹی تشکیل دینے کے اعلان کے ساتھ تامل ناڈو انتخابات میں تمام سیٹوں پرلڑنے کا بھی اعلان کیا ہے۔مداحوں کے ساتھ ملاقات کے بعد انہوں نے راگھویندرکلیان منڈپم میں کہاکہ یہ میرا سیاست میں آناطے ہے،میں اب سیاست میں آ رہا ہوں،یہ آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی نئی سیاسی پارٹی تشکیل دیں گے۔انہوں نے اعلان کیا کہ اگلے اسمبلی انتخابات میں، وہ ریاست کی تمام اسمبلی نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے ہوں گے۔رجنی کانت نے کہا کہ میری پارٹی کے تین منترہوں گے سچائی، محنت اور ترقی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کی حالت بہت خراب ہو گئی ہے،تمام ریاستیں ہمارا مذاق کر رہی ہیں،اگر میں سیاست میں نہیں آؤں تو یہ لوگوں کے ساتھ دھوکہ ہوگا۔رجنی کانت نے مزید کہا کہ سیاست کے نام پر آج کے رہنما ہمارے پیسے لوٹ رہے ہیں اور اب اس سیاست کو جڑ سے تبدیل کرنا ضروری ہے۔جنوبی ہند کے مشہور فلم اداکار نے کہاکہ جہاں بھی طاقت کا غلط استعمال ہوتا ہے، میں اس کے خلاف کھڑا ہوں گا۔انہوں نے کہا کہ آج چاروں طرف بدعنوانی ہے اور سیاست کا صرف ایک ڈرامہ ہورہاہے۔اس سے پہلے رجنی کانت نے کہا تھا کہ وہ 31دسمبر کو اپنے سیاسی کیریئر کے بارے میں خلاصہ کریں گے، وہ گذشتہ6 دنوں سے چنئی میں اپنے حامیوں کے ساتھ ملاقات کر رہے تھے۔31دسمبر کوان کی ملاقات کاچھٹا اور آخری دن تھا۔سال 2018کی آمد سے قبل عام لوگوں کے ساتھ سیاسی جماعتوں کی بھی نظریں لگی ہوئی تھیں۔رجنی کانت تامل ناڈو کے 18اضلاع میں نے 6 دنوں تک یاتراکی،اپنی یاترا میں انہوں نے ہر روز کم از کم ایک ہزار لوگوں سے ملاقات کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔اس سے پہلے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا تھاکہ میں 1996سے سیاست میں ہوں،میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں سیاست میں داخل ہورہا ہوں،میں 31دسمبرکو سیاست پر اپنا موقف رکھوں گا۔آپ کو بتادیں کہ گزشتہ سال دسمبر میں سابق وزیراعلیٰ جے للتاکی موت کے بعد ریاست کی سیاست میں خلاء پیداہوگیا ہے۔حکمراں اے آئی اے ڈی ایم کے میں بھی سخت اختلافات ہیں۔آپ کویاددلادیں کہ 1996میں رجنی کانت جے للتا کے خلاف احتجاج میں آئے اور ڈی ایم کی حمایت کرنے کے لئے لوگوں سے اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ اگر جے للتا اقتدار واپس آ جائیں گی تو بھگوان بھی تامل ناڈو کو بچانہیں سکے گا۔اس کے بعدڈی ایم کے نے انتخابات میں بہت بڑی فتح حاصل کی تھی، تاہم رجنی کانت نے بعد میں اسے اپنی غلطی بتایاتھا۔رجنی کانت سے پہلے ساؤتھ کے دوسرے فلم ساز کمال ہاسن بھی سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں۔گزشتہ مہینے انہوں نے اپنی سالگرہ پر ’’میان وہسل‘‘کے نام سے وہسل بلور اپلی کیشن لانچ کیاتھا۔انہوں نے کہا کہ وہ کچھ دنوں میں سیاست میں آسکتے ہیں۔تامل فلموں کے سپر اسٹاررجنی کانت نے طویل انتظار کے بعد بالآخر سیات میں اینٹری دے دی، اپنی سیاسی پارٹی بنانے اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرلیا۔ رجنی کانت نے ا توار کو اپنے مداحوں سے رابطہ مہم کے آخری روزچنئی میں اعلان کیا کہ وہ 2021ء میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں حصہ لیں گے اور تامل ناڈو کے تمام 234حلقوں سے اپنے امیدوار کھڑے کریں گے۔اُن کا کہنا تھا کہ وہ سیاست میں کسی عہدے کے لئے نہیں آرہے، اگر میں ایسا چاہتا تو1996ء میں خود حاصل کرلیتا، جب 45سال کی عمر میں اس کی خواہش نہیں کی تو 68 برس کی عمر میں کیوں کروں گا؟۔سپراسٹار کا کہنا تھا کہ میری سیاست کی اساس مذہب یا ذات نہیں بلکہ روحانیت ہوگی۔رجنی کانت کا کہنا تھا کہ وہ نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں، جمہوریت کرپٹ ہوچکی ہے، اسے صاف کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ دور شہنشاہیت میں ملکوں اور سلطنتوں کو لوٹا جاتا تھا لیکن ہم اس سطح پر آگئے ہیں کہ حکمران اپنے ہی ملک کو لوٹ رہے ہیں۔رجنی کانت نے اپنے مداحوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلم نہیں سیاست ہے،ہمیں ہرگلی اور ہر محلے میں پھیل کر کام کرنا ہوگا۔تامل سپراسٹار کے سیاست میں قدم رکھنے کے اعلان پر مداحوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے رقص کیا اور اُن کے حق میں نعرے بازی کی۔بالی ووڈ اسٹار امیتابھ بچن نے رجنی کانت کے لئے نیک تمناوں کا اظہار کیا ہے۔ ماضی کے مشہور اداکار کمل ہاسن نے رجنی کانت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے بھائی کے سماجی شعور اور سیاست میں انٹری پر مبارک باد دیتے ہیں۔رجنی کانت کے مداحوں میں شامل بی جے پی تیرو ویلور ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ایس وی سیلوا راج نے کہا کہ وہ بھی رجنی کانت کی پارٹی میں شامل ہوں گے۔