نئی دہلی، 5 ؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )سری لنکا نے آج زور دیا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کوئی آپشن نہیں ہے اور سرحدپار دہشت گردی سارک کے لئے بات چیت کا ایک اہم موضوع ہے اور 8 ممالک کے گروپ کے ارکان کو آگے بڑھنے سے پہلے اس پر اور اس کے اثرات کے بارے میں بحث کرنی پڑے گی۔سری لنکا کے وزیر اعظم رانل وکرم سنگھے نے اپنے ہندوستانی ہم منصب نریندر مودی کے ساتھ علاقے میں سیکورٹی کی صورت حال سمیت اہم علاقائی اور دو طرفہ مسائل پر تبادلہ خیال کیا،اس کے بعد میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے زور دیا کہ اگر سارک بکھر جاتا ہے تو بھی سرحدپار دہشت گردی ختم نہیں ہو گی، اس لئے ہندوستان کو غور کرنا ہے کہ اس سے نمٹتے ہوئے کس طرح آگے بڑھا جائے۔انہوں نے کہاکہ سرحدپار دہشت گردی کا موضوع میز پر ہے،سارک کو اس پر غور کرنا ہے اور جو ہوا(سارک اجلاس کا منسوخ کیا جانا)اس پر غور کرنا ہے،ہم اسے کس طرح چلاتے ہیں۔سرحدپار دہشت گردی اور ویسے علاقے جن میں ہم مل کر کام کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو سارک کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعہ کی وجہ سے گروپ میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
اری حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان فوجی کشیدگی کے آثار کے بارے میں پوچھے جانے پر سری لنکا کے وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ جنگ کسی کے لئے بھی کوئی اختیار ہے۔انہوں نے کہا کہ کشیدگی کو دور کرنے کے لئے مودی نے کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ان سے سوال کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں سارک اجلاس کے بارے میں سری لنکا نے تاخیر سے رد عمل کا اظہارکیا اور بنگلہ دیش اور افغانستان کی طرح وہ پاکستان پرسرحدپار دہشت گردی کی مذمت میں دلچسپی نہیں لے رہا تھا؟اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان اور بنگلہ دیش کی اپنی داخلی سلامتی کا مسئلہ ہے اور سری لنکا کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہے لیکن کولمبو نے کہا کہ اجلاس کے لئے ماحول سازگار نہیں ہے۔