لکھنؤ10؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے پارٹی کے بانی کانشی رام کی برسی کے موقع پر کل منعقد ریلی کے دوران مچی بھگدڑ میں دو لوگوں کی موت اور بہت سے دوسروں کے زخمی ہونے کے لئے ایس پی حکومت کی لچر انتظامیہ اور پولیس نظام کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔انہوں نے لاپرواہ اورذمہ دار حکام کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔مایاوتی نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ اور زخمیوں کے تئیں تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے آج ایک بیان جاری کرکے کہا کہ بی ایس پی کے خوددار لوگوں کو دو دو لاکھ روپے کی سرکاری خیرات سے زیادہ ضروری ہے کہ انہیں انصاف ملے جو اس المناک واقعہ کے لئے لاپرواہ اور ذمہ داروں کو مناسب قانونی سزا دے کر ہی دیا جا سکتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ کل مچی بھگدڑ میں دو خواتین ہلاک ہو گئی تھی جبکہ کئی دیگر زخمی ہو گئے تھے۔اتر پردیش کے وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو 2-2 لاکھ روپے کی مالی مدد اور زخمیوں کے مفت علاج کا اعلان کیا تھا۔بی ایس پی کی سربراہ نے کہا کہ قانون نظام کے محاذ پر بری طرح ناکام رہنے والی ایس پی حکومت نے ہر چھوٹے بڑے مجرمانہ واقعات، حادثات، فرقہ وارانہ تشدد اور فسادات کے معاملے میں سرکاری فنڈزکوہی انصاف مان لیا ہے جو غیر منصفانہ ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ہر سنگین واردات میں سرکاری فنڈز دینے کی آڑمیں قصورواروں اور مجرموں کو بچانے کا کام کیا جاتا ہے۔یہ کون سا سماج وادی انصاف ہے جس کی نئی روایت موجودہ ایس پی حکومت نے شروع کی ہے۔اسے لوگوں کو ضرور سمجھنا چاہئے۔