ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ریاستی بجٹ مارچ کے دوسرے ہفتے میں،ایس ایم کرشنا کو منانے کی میں خود کوشش کروں گا: سدرامیا

ریاستی بجٹ مارچ کے دوسرے ہفتے میں،ایس ایم کرشنا کو منانے کی میں خود کوشش کروں گا: سدرامیا

Thu, 02 Feb 2017 14:22:52    S.O. News Service

بنگلورو،یکم فروری(ایس اونیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہاکہ ریاستی حکومت اگلے سال کا بجٹ مارچ کے دوسرے ہفتے میں پیش کرے گی۔ آج میسور میں مختلف ترقیاتی پروگراموں میں حصہ لینے کیلئے آمد پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سابق وزیر اعلیٰ اور سینئر کانگریس لیڈر ایس ایم کرشنا کے پارٹی چھوڑ دینے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا۔ اور کہاکہ ایس ایم کرشنا کو پارٹی میں بنے رہنے کیلئے وہ خود ان سے ملاقات کرکے گذارش کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ایس ایم کرشنا کی طرف سے پارٹی چھوڑنے کے فیصلے کا اعلان ہونے کے بعد اب تک ان سے انہوں نے کوئی بات نہیں کی ہے۔ جلد ہی بنگلور پہنچ کر وہ ایس ایم کرشنا سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جو تمام طبقات اور تمام عمر کے لوگوں کو اعتماد میں لے کر کام کررہی ہے۔ایس ایم کرشنا کو کس وجہ سے ناراضگی ہوئی ہے یہ دریافت کرکے ان کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی جائے گی۔ ایس ایم کرشنا کے استعفیٰ پر لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ملیکارجن کھرگے کے ردعمل پر کہ کانگریس پارٹی کی ریاستی یونٹ میں کچھ تو غلط ہورہا ہے۔ سدرامیا نے کہاکہ کھرگے نے کس سلسلے میں اس طرح کا تبصرہ کیا ہے اس کی صراحت ہونے کے بعد وہ اپنا ردعمل ظاہر کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ پارٹی میں کسی کو نظر انداز نہیں کیاگیا ہے۔ لیکن کچھ لیڈروں کو یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ وہ اس احساس کو اپنے دل سے نکال دیں کہ ان کے بغیر کانگریس زندہ نہیں رہے گی۔ پارٹی کیلئے سب کی ضرورت ہے، اور سبھوں کیلئے پارٹی بھی ضروری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ تمام سرکاری عہدیداروں کو سخت تاکید کی گئی ہے کہ فلاحی کاموں کی تکمیل پر خصوصی توجہ دیں ۔ خاص طور پر خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی ، مویشیوں کیلئے چارہ اور بے روزگار ہاتھوں کیلئے مزدوری کا انتظام کرنے افسران کو تاکید کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں راحت کاری کیلئے 27 اکتوبر کو مرکزی حکومت سے درخواست کی گئی کہ 4072 کروڑ روپیوں کی امداد کرناٹک کو دی جائے ، لیکن اعلیٰ اختیاری کمیٹی نے 1782 کروڑ روپیوں کی امداد کرناٹک کو دینے کا اعلان کیا، لیکن اس میں سے بھی کرناٹک کو اب تک ایک روپیہ بھی مہیا نہیں کرایا گیا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے ہمراہ ریاستی وزراء ڈاکٹر ایچ سی مہادیوپا ، ایچ آنجنیا اور دیگر موجود تھے۔


Share: